لیبیا کی پارلیمان پر مسلح افراد کا حملہ

لیبیا میں تین سال قبل معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے کشیدگی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلیبیا میں تین سال قبل معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے کشیدگی جاری ہے

لیبیا میں ایک ملیشیا نے ملکی پارلیمان پر حملے کے بعد حکومت سے کام روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام اختیارات اس تنظیم کے حوالے کر دے جو ملک کے لیے نیا آئین تشکیل دے گی۔

یہ مطالبہ لیبیا کی قومی اسمبلی پر حملے کے ایک گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ اس حملے میں دو دو افراد ہلاک ہوئے اور متعدد کو یرغمال بنا لیا گیا۔

ایک حکومتی وزیر نے اس حملے مذمت کی اور کہا کہ حکومت کام کرنا نہیں روکے گی۔

ملیشیا کے رہنما خلیفہ حفتر نے جمعے کو بن غازی میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی انہوں نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

لیبیا میں بعض ملیشیا اسلام پسندوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سے بے چین ہیں اور وہ ان کی اثر میں کمی چاہتے ہیں۔

لیبیا میں تین سال قبل معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔

حملے کے بارے میں تنبیہ جاری کی گئی تھی جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں زیادہ لوگ نہیں تھے
،تصویر کا کیپشنحملے کے بارے میں تنبیہ جاری کی گئی تھی جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں زیادہ لوگ نہیں تھے

اتوار کو پارلیمان پر ہونے والے حملے کا شک سابق حکمران کرنل قذافی کی حامی تنظیم زنتان پر بھی ظاہر کیا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب حکومت کی حمایت فوجیوں نے جوابی کارروائی کی تو انہوں نے اس علاقے میں خوفناک دھواں دیکھا۔

اس قبل حملے کے بارے میں تنبیہ جاری کی گئی تھی جس کی وجہ سے پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔

سابق حکمران کرنل قذافی کے وفادار رہنے والے خلیفہ ہفتر نے ہی جمعہ کو بن غازی شہر میں اسلامی شدت پسندوں پر ہوئے ہوائی اور زمینی حملے کی قیادت کی تھی۔

اس حملے میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ حکومت نے اس واقعہ کی مذمت کی تھی اور بن غازی شہر کو نو فلائی زون قرار دے دیا تھا۔