قذافی حکومت کے وزیر کو سزائے موت

لیبیا میں ایک عدالت نے ملک کے سابق رہنما معمر قذافی کے ایک سابقہ وزیر احمد ابراہیم کو موت کی سزا سنائی ہے۔
احمد ابراہیم کو عدالت نے سنہ دو ہزار گیارہ میں ملک میں ہونے والی شورش کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کی منصوبہ بندی کا مجرم قرار دیا ہے۔
عدالت نے انھیں قومی سلامتی کو خطرہ لاحق کرنے کا مجرم بھی قرار دیا ہے۔
<link type="page"><caption> ایک سال بعد، معمر قذافی کا خاندان اور ساتھی کہاں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/10/121020_qadhafi_family_wereabouts_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عدالت کا کہنا ہے کہ احمد ابراہیم نے سرت قصبے میں مقامی لوگوں کو نباغیوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر اکسایا۔
انھیں یہ سزا فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جائے گی۔
طرابلس سے بی بی سی کی نامہ نگار رانا جواد کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت کے اہم ممبران میں سے کسی کو بھی دی جانے والی یہ پہلی سزائے موت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہماری نامہ نگار کا کہنا ہے کہ احمد ابراہیم کو معمر قذافی کے آبائی قصبے سرت سے پکڑا گیا تھا اور وہ کرنل قذافی کے دور کے رشتےدار بھی ہیں۔
نامہ نگار نے بتایا کہ احمد ابراہیم اسّی کی دہائی میں وزیرِ اطلاعات اور تعلیم رہ چکے ہیں اور لیبیا کے عوام انھیں اُس شخص کے طور پر جانتے ہیں جس نے سکولوں میں انگریزی پڑھائی جانے پر ایک دہائی کے لیے پابندی لگائی تھی۔
احمد ابراہیم سابق حکومت کی انتہائی خوف آمیز ’انقلابی کمیٹیوں‘ کے بھی ایک اعلیٰ سطحی رکن تھے۔ یہ کمیٹیاں سابق آمر کی وفادار تھیں اور کرنل قذافی کی اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے کا کام کرتی تھیں۔
دو ہزار گیارہ کی تحریک کے دوران احمد ابراہیم ایک ایسے ادارے کے سربراہ تھے جو کہ سابق رہنماء کی کتاب ’گرین بک‘ پر تحقیق کر رہا تھا۔ کرنل قذافی کی کتاب گرین بک ایک حکومتی دستور ہے جو کہ جزوی طور پر اشتراکیت کے نظام یعنی سوشل ازم پر مبنی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کو مسراتا کی عدالت میں دی جانے والی یہ سزا لیبیا کی عدالتِ عظمیٰ میں برقرار رکھی جائے گی۔
لیبیا کے حکام معمر قذافی کے خاندان اور وفاداروں کو بتالیس سالہ سابق حکومت کی حمایت کرنے کی سزا جلد دینا چاہتے ہیں تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان مقدموں کے انصاف کے بین الاقوامی میعار پر پورا اترنے کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
سابق رہنما کرنل معمر قذافی کی حکومت کے اہم ترین رکن اُن کے بیٹے سیف الاسلام کے مقدمے کی سماعت ابھی ہونا ہے۔
یاد رہے کہ اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گيا تھا کہ معمر قذافی کے دور میں ملک کے انٹیلیجنس سروسز کے سربراہ عبداللہ السینیوسی کی حوالگی کے پس منظر میں سماعت کو موخر کیا گيا۔ السینیوسی کو پانچ ستمبر کو موریطانیہ کی جانب سے لیبیا کے حوالے کیا گيا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ان سے پوچھ گچھ سے سیف الاسلام کے متعلق مزید تفصیلات مل سکتی ہیں جو مقدمے کے دوران بطور ثبوت استعمال ہو سکتی ہیں۔
جرائم کی عالمی عدالت نے سیف الاسلام کے خلاف وارنٹ جاری کر رکھے ہیں تاہم لیبیا کے حکام نے انہیں ہیگ منتقل کرنے سے منع کر دیا تھا۔







