لیبیا: اخوان المسلمین کے دفاتر پر حملہ

مظاہرین نے طرابلس میں جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا
،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے طرابلس میں جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا

لیبیا میں مظاہرین نے ایک معروف سیاسی کارکن کے قتل کے ردعمل میں اخوان المسلمین کے دفاتر پر حملہ کیا ہے۔

عبدالسلام المسماری جمعے کی نماز کے بعد مسجد سے نکلے تھے کہ انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

مظاہرین نے اس قتل کا الزام اخوان المسلمین پر لگایا ہے اور دارالحکومت طرابلس اور بن غازی میں اخوان المسلمین کے سیاسی ونگ جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کے دفاتر پر حملے کیے۔

کرنل معمر قذافی کے حکومت کے خاتمے کے تقریباً دو سال بعد بھی لیبیا کی حکومت کو ان مسلح گروہوں پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ملک کی پارلیمان میں جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے اس کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہلاک ہونے والے کارکن عبدالسلام المسماری وکیل تھے اور لیبیا میں اخوان المسلمین کی موجودگی کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتے تھے۔

ان کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو قذافی کے خلاف ان مظاہروں کا انعقاد کرنے میں پیش پیش تھے جن کے نتیجے میں آخر کار قذافی کے حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔

طرابلس میں مظاہرین نے جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کے ہیڈکوارٹر اور سیکیولر جماعتوں کے شمالی اتحاد کہ دفاتر پر حملہ کر کے کھڑکیاں توڑیں اور فرنیچر لوٹ لیا۔

جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کے دفتر میں مظاہرین
،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کے ہیڈکوارٹر کی کھڑکیاں توڑیں اور فرنیچر لوٹ لیا

مظاہرین نے بن غازی میں اس عمارت پر بھی حملہ کیا جہاں جسٹس اینڈ کنسٹرکشن پارٹی کا دفتر ہے اور جو 2011 میں ہونے والی مسلح بغاوت کا مرکز تھا۔

فرانس کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مظاہرین میں شامل ایک شخص کا کہنا تھا: ’ہم چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو تحلیل کر دیا جائے۔ یہ ہمارے تمام مسائل کی جڑ ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے ایک آئین چاہیے، اس کے بعد سیاست سے متعلق قوانین اور پھر سیاسی جماعتیں اپنا کام کر سکتی ہیں۔‘

قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بن غازی میں کئی پرتشدد واقعات ہو چکے ہیں۔

طرابلس میں بی بی سی کی نامہ نگار رعنا جواد کا کہنا ہے تشدد کی اس حالیہ لہر کے آغاز کے بعد عبدالسلام المسماری پہلے کارکن ہیں جن کو قتل کیا گیا ہے۔

ہماری نامہ نگار کا کہنا تھا کہ یہ ملک میں ایک خطرناک دور کا آغاز ہو سکتا ہے اور کچھ افراد ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ یہ شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔

بن غازی میں سکیورٹی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے اور جمعے کو ایئر فورس کے ایک ریٹائرڈ کرنل اور ایک سینیئر پولیس اہلکار کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔