لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے سربراہ پر امریکی حملہ

 یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے کسی شدت پسند کے خلاف کارروائی کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے کسی شدت پسند کے خلاف کارروائی کی ہے

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے لیبیا میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے مرکزی رہنما کو نشانہ بنایا ہے اور ممکنہ طور پر وہ اس حملے میں مارے گئے ہیں۔

پینٹاگون نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ ’عراقی نژاد ابو نبیل جو وسام نجم الزبیدی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے، القاعدہ کے پرانے کارکن تھے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جمعے کو درنا کے علاقے میں کی گئی اور یہ اس امر کا اظہار ہے کہ امریکہ دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں کا ہر اس جگہ پیچھا کرے گا جہاں وہ سرگرم ہوں گے۔

خبر رساں اداروں نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ابو نبیل اس حملے میں مارے جا چکے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک نے کہا ہے کہ ’نبیل کی موت لیبیا میں داعش کے لیے نئے کارکنوں کی بھرتی، نئے اڈوں کا قیام اور امریکی سرزمین پر حملوں جیسے اہداف کا حصول مزید مشکل بنا دے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی منظوری جمعے کو پیرس میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں سے قبل دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے کسی شدت پسند کے خلاف کارروائی کی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی طیاروں نے درنا کے جنوب مشرقی علاقے فتحیا میں حملہ کیا تھا۔