برطانیہ شام میں کارروائی کے لیے’ تیار‘

بی بی سی کو یہ بھی معلوم چلا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے ایک چھوٹی فورس کا لیبیا بھی بھیجے جانے کے امکانات ہیں

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنبی بی سی کو یہ بھی معلوم چلا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے ایک چھوٹی فورس کا لیبیا بھی بھیجے جانے کے امکانات ہیں

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی حکومت شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف مزید اقدامات لینے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے وزرا اگلے ہفتے شام میں تنظیم کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں بات کریں گے۔

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت ایوان نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ کو کامیاب بنانے کے لیے کام مکمل کر چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت ایوان نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ سے قبل عراق میں برطانوی فضائیہ کی کامیابیوں اور کرد اور عراقی سکیورٹی فورسز کی تربیت کے بارے میں بات کریں گے۔

بی بی سی کو یہ بھی معلوم چلا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے ایک چھوٹی فورس کا لیبیا بھی بھیجے جانے کے امکانات ہیں۔

ذرائع کے مطابق 20 اہلکاروں پر مبنی ایک فورس لیبیا بھیجی جا سکتی ہے جو اس کی سرحدوں کو محفوظ بنا سکے۔ یہ قدم بڑی تعداد میں تارکین وطن کی یورپ میں آمد کو روکنے کے حوالے سے ہے۔

برطانوی وزارت دفاع کی ترجمان کا کہنا ہے ’برطانیہ اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ہمراہ لیبیا میں ایک جائز حکومت بنانے کی کوششیں کر رہا ہے اور ایسا کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ تاہم اس وقت کس طرح یہ ہدف حاصل کیا جائے گا اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اس بات پر زور دے گی کہ اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کو شکست دینے کے لیے شام کا رخ کرنا ضروری ہے اور اس حوالے سے برطانیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

خطے میں عسکری کردار کو بڑھانے کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ’حکومت بنیادی طور پر ایوان نمائندگان میں سوال اٹھائے گی: کیا ہم مزید کر سکتے ہیں؟ کیا ہمیں مزید کرنا چاہیے؟ لیکن اس کے لیے شام جانا ہو گا۔‘

ایک اور سرکاری ذرائع نے بتایا ’حکومت ایوان کو بتائے گی کہ عراق میں فوجی کارروائی کامیاب رہی۔ دولت اسلامیہ کا خطرہ کم ہوا ہے اور اس کے زیر کنٹرول علاقے واپس لے لیے گئے ہیں۔ اس کے چند رہنما ہلاک کیے گئے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ سرحد پار شام میں ہے۔‘

واضح رہے کہ دو سال قبل ایوان نمائندگان نے شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برطانوی فوجی کارروائی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایوان میں شام میں برطانوی فوجی کارروائی پر ووٹ لازمی نہیں ہے۔ تاہم حکومت ستمبر میں اس حوالے سے اپنا کیس پیش کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لیبیا میں چھوٹی سکیورٹی فورس بھیجنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ لیبیا میں کب اتحادی حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔

نیٹو ایک بار پھر لیبیا کے دفاع اور فوج کو مضبوط کرنے کے لیے لیبیا جائے گی جب وہاں سیاسی استحکام آ جائے گا۔