’برطانوی فوجیوں پر جنگی جرائم کے مقدمات قائم ہو سکتے ہیں‘

عراق جنگ کے دوران برطانوی فوجیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف وزیوں کی تحقیقات کے لیے حکومت پہلے بھی دو جامع انکوارئیاں کر چکی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنعراق جنگ کے دوران برطانوی فوجیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف وزیوں کی تحقیقات کے لیے حکومت پہلے بھی دو جامع انکوارئیاں کر چکی ہے

عراق جنگ میں کی جانے والی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے والی تنظیم کے سربراہ مارک وارک کا کہنا ہے کہ عراق میں لڑنے والے برطانوی فوجیوں کو مستقبل میں جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

مارک وارک کا کہنا ہے کہ وہ بہت سے جرائم کی تحقیقات کر رہے ہیں اور یہ فیصلہ کرنے کے لیے صلاح مشورے کی ضرورت ہے کہ آیا یہ جرائم جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔

<link type="page"><caption> ’عراقی جنگ پر رپورٹ عام انتخابات تک ملتوی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/01/150121_uk_iraq_war_inquiry_report_delay_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

دوسری جانب برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’اس طرح کے الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔‘

خیال رہے کہ عراق جنگ کے دوران برطانوی فوجیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے حکومت پہلے بھی دو جامع تحقیقات کر چکی ہے۔

برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ سے بات کرتے ہوئے مارک وارک نے کہا ہے کہ وہ جن الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں ان میں قتل کے الزامات بھی ہیں۔

مارک وارک کا کہنا تھا کہ ’اگلے 12 سے 18 ماہ کے دوران ہم تمام الزامات کی تحقیقات کر کے صورتحال کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

خیال رہے کہ تقریباً 1500 واقعات جن میں 200 قتل بھی شامل ہیں، کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

دوسری جانب برطانوی وزاتِ دفاع کی ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق جنگ کے دوران فوجیوں کی اکثریت کا طرز عمل عین قانونی تھا۔

’فوجی آپریشنز کے لیے تعینات کے جانے والے فوجیوں کی اکثریت قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے۔‘

واضح رہے کہ اگر تحقیقات کے نتیجے میں ٹھوس شواہد سامنے آتے ہیں تو فوج کے اہلکاروں پر مقدمات چلائے جاسکتے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ انکوائری سنہ 2019 میں مکمل ہو گی۔