برطانیہ: ’عراقی جنگ پر رپورٹ عام انتخابات تک ملتوی‘

،تصویر کا ذریعہ
بی بی سی کے خیال میں سنہ 2003 کی عراقی جنگ کے متعلق کی جانے والی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ برطانوی عام انتخابات سے قبل شائع نہیں ہو گی۔
واضح رہے کہ اس رپورٹ کا برطانیہ میں ایک عرصے سے انتظار کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں قائم کی جانے والی کمیٹی نے سنہ 2009 میں تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور سنہ 2011 میں اس نے اپنی آخری عوامی سماعت کی تھی۔
بی بی سی کے سیاسی مدیر نک روبنسن کا کہنا ہے کہ اس تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین سر جان چیلکوٹ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو ایک خط کے ذریعے یہ اطلاع دیں گے کہ اس کی اشاعت مئی میں ہونے والے انتخابات تک ملتوی کی جا رہی ہے۔
نائب وزیر اعظم نک کلیگ کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر ’ناقابل فہم‘ ہے۔
اور لبرل ڈیموکریٹ رہنما نے کہا ہے کہ اس سے عوام میں یہ پیغام جائے گا کہ تاخیر ان کی جانب سے کرائی جا رہی ہے جن کو اس رپورٹ میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور وہ اس کے ساتھ ’چھیڑچھاڑ‘ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس میں امریکی قیادت میں عراق پر کیے جانے والے حملے میں برطانیہ کے شامل ہونے کی وجوہات کی تحقیقات کی گئی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت کو گرا دیا گيا تھا اور اس کے بعد تصادم جاری رہا جس کے سبب برطانوی افواج کو عراق میں سنہ 2009 تک قیام کرنا پڑا تھا۔
ارکان پارلیمان نے مطالبہ کیا ہے کہ رپورٹ مئی سات کو ہونے والے انتخابات سے قبل شائع کی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ
بہرحال نک رابنسن نے کہا ہے کہ شاہدین کو اپنے خلاف الزامات کے جواب دینے کا عمل جو گذشتہ خزاں میں شروع ہوا تھا وہ وقت پر پورا نہیں ہو سکا ہے کہ رپورٹ کو شائع کیا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ سر جان وقت پر رپورٹ نہ شائع کیے جانے کی وجوہات پیش کریں گے۔ اس معاملے پر پہلے گارڈیئن اخبار نے رپورٹ شائع کی تھی۔
وزیروں نے یہ واضح کردیا تھا کہ رپورٹ کو فروری کے اختتام تک مکمل کردیا جائے تاکہ انتخابات سے قبل مارچ میں جب ایوان کا اجلاس ہو تو اس پر کافی بحث کا موقع مل سکے۔
وزیراعظم کیمرون نے تحقیقات کی رفتار پر اپنی ’زبردست مایوسی‘ کا اظہار کیا ہے تاہم کہا ہے کہ اس کا کام آزادانہ ہے اور ان کا اس میں دخل دینا غلط ہوگا۔
ہرچندکہ تحقیقات کمیٹی نے کبھی بھی رپورٹ کی اشاعت کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی تھی تاہم اطلاعات کے مطابق ڈی کلاسیفائڈ دستاویزات کی رپورٹ میں شمولیت کے طویل اور صبر آزما مرحلوں کے سبب یہ تاخیر ہوئی۔
گذشتہ موسم گرما میں تحقیقات کمیٹی اور برطانوی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت اس رپورٹ میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے درمیان ذاتی گفتگو اور خط و کتابت کا ’لب لباب‘ شامل کرنے کی اجازت ہوگی۔
ٹونی بلیئر ان 100 سے زیادہ گواہوں میں شامل ہیں جو تحقیقات کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ بلیئر نے کہا ہے کہ وہ اس تاخیر کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اسے جلد از جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
نک کلیگ کا کہنا ہے کہ اگر یہ برطانوی خارجہ پالیسی کے لیے حسب حال ہے تو ملک ’اب مزید اس کا انتظار نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عوام نے اس کا بہت انتظار کرلیا اور اس میں اب مزید تاخیر بعید از قیاس ہے۔۔۔ ہم عوامی طور پر زیادہ واضح اور طے نظام الاوقات دیکھنا چاہتے ہیں جس میں اشاعت کی ٹھوس تاریخ اور سخت ڈیڈ لائن ہو۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’اگر تحقیقات رپورٹ کو جلدی شائع نہیں کیا جاتا تو اس بات کا خطرہ ہے کہ عوام یہ سوچے گی کہ رپورٹ کے ساتھ وہ لوگ چھیڑچھاڑ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن پر تحقیقات میں تنقید ہوئی ہے خواہ معاملہ ایسا ہو یا نہیں۔‘
اس سے قبل ٹونی بلیئر کے مواصلات کے ڈائرکٹر الیسٹیئر کیمبل پر ایک ڈوزیئر میں ’چھیڑ چھاڑ‘ کا الزام ہے جس میں صدام حسین کی جانب سے درپیش خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا لیکن کیمبل کا کہنا ہے کہ انھوں نے تحقیقات کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے اس کی شد و مد کے ساتھ تردید کی ہے۔
کنزرویٹیو پارٹی کے ایم پی برنارڈ جینکن نے کہا کہ’ کابینہ سیکریٹری جرمی ہےوڈ سے جانچ کے بارے میں آئندے ہفتے سوال کیا جائے گا جب وہ پبلک ایڈمنسٹریشن کی سلیکٹ کمیٹی کے ارکان پارلیمان کے سامنے ہوں گے۔‘
مسٹر جینکن نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم تمام لوگ یہ خیال کر رہے تھے کہ یہ آ رہی ہے۔ اس کے آنے کی خوشبو آ رہی تھی، ہے نا؟ میرے خیال میں ہمیں اس کی بابت وضاحت ملنی چاہیے۔‘







