برطانیہ میں تعصب ’قابلِ قبول‘

برطانیہ میں حکمراں جماعت کی سینیئر رہنما سعیدہ وارثی کے مطابق مسلمانوں کے خلاف تعصب، سماجی اعتبار سے برطانیہ میں قابلِ قبول بن گیا ہے۔
بیرونس وارثی جو ٹوری پارٹی کی چیئرمین ہیں، لیسٹر یونیورسٹی میں ایک تقریر میں اس صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کریں گی کہ مسلمانوں کو انتہا پسند اور معتدل مسلمانوں میں تقسیم نہ کیا جائے۔
ان کی تقریر کے کچھ حصے اخبار ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ نے شائع کیے ہیں۔
پاکستانی نژاد سعیدہ وارثی پہلی مسلمان خاتون ہیں جنھیں برطانیہ میں ٹوری اور لبرل ڈیموکریٹ کی مخلوط حکومت میں کابینہ میں وزیر کا درجہ دیا گیا ہے۔ اپنی تقریر میں وہ کہیں گی کہ اگر مسلمانوں کے بارے میں انتہا پسند اور معتدل جیسی اصطلاحیں استعمال کی گئیں تو اس سے غلط فہمیاں جنم لیں گے۔
وہ کہیں گی کہ میڈیا اسلام پر سطحی قسم کی بحث کر رہا ہے۔
بیرونس وارثی کہیں گی کہ ’برطانیہ میں بہت سے لوگوں کے نزدیک مسلمانوں کے خلاف تعصب ایک غیر متنازع اور عام سی بات بن گیا ہے اور یہ کہ اپنی حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے وہ کٹرپن کے خلاف لڑائی لڑتی رہیں گی۔‘ وہ یہ بھی کہیں گی کہ میڈیا سمیت کچھ حلقوں میں جس طرح مذہب پر سطحی بحث کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے برطانیہ، مذہبی لوگوں کے لیے نسبتاً کم قابلِ برداشت بن گیا ہے۔
اپنی تقریر میں بیرونس وارثی کہیں گی کہ انھوں نے گزشتہ سال پوپ بینیڈکٹ کے برطانیہ کے دورے میں ان کے ساتھ ’اسلامو فوبیا‘ کا مسئلہ اٹھایا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ یورپ اور اس کے مسلمان شہریوں کے درمیان بہتر تفہیم پیدا کریں۔
بی بی سی کے مذہبی امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بیرونس وارثی کھلے عام کہیں گی مسلمانوں علیحدگی میں یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے خلاف تعصب کو برطانوی لوگ اس طرح سے سماجی دھبہ نہیں سمجھتے جیسے دیگر مذاہب یا نسلی گروپوں کے خلاف تعصب کو سماجی طور پر دھبہ سمجھا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ دو ہزار نو میں بیرونس وارثی نے اپنی پارٹی کی کانفرنس میں کہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت برطانیہ میں سماجی طور پر قابلِ قبول ہوگئی ہے۔
وہ کہیں گی کہ مسلمانوں میں سے چند افراد کی طرف سے دہشت گردی کے جرائم کے باعث تمام مسلمانوں کی مذمت نہیں کی جانی چاہیے۔
البتہ بیرونس وارثی مسلمانوں سے بھی کہیں گی کہ وہ ایسے افراد کو مسترد کرنے میں مزید واضح ہوں جو تشدد کرتے ہیں۔’ وہ جو ہمارے ملک میں دہشت گردی کا جرم کرتے ہیں، انھیں سے نمٹنے کے لیے قانون کی بھر پور طاقت ہی درکار نہیں بلکہ سماجی طور پر بھی انہیں مسترد کرنے اور معاشرے سے الگ کر دینے کی ضرورت ہے۔‘







