’مشرقِ وسطیٰ جمہوریت کی طرف جا سکتا ہے‘

ٹونی بلیئر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناگرچہ حسنی مبارک کے دور میں مصر میں معاشی حالات بہتر ہوئے لیکن انھوں نے اپنے عہد میں تبدیلی کی قوتوں کو دبائے رکھا: ٹونی بلیئر

برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ مصر میں ہونے والے واقعات پورے کے پورے مشرقِ وسطیٰ کو جمہوریت کی طرف لے کر جا سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امن کے ایلچی ٹونی بلیئر نے کہا کہ معزول ہونے والے صدر حسنی مبارک خطے میں استحکام کی ایک قوت تھے۔

’لیکن مصر میں جو کچھ ہوا وہ تبدیلی کے لیے بہت ہی بڑا موقع ہے۔‘

ادھر برطانیہ میں بزنس کے وزیر وِنس کیبل نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کے بینک ’غیر مناسب طور پر‘ حسنی مبارک کو ذاتی اثاثوں کو تحفظ فراہم کرنے سے باز رہیں۔

سابق وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے بی بی سی ون کے اینڈریو مار شو میں ایک انٹرویو میں کہا کہ مصر کے اخوان المسلین کے خلاف ’ہسٹیریا‘ نہیں ہونا چاہیے اور مغربی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ سے زیادہ مکالمہ وہ مشاورت رکھنی چاہیے۔

امریکہ میں چند قدامت پرستوں کا خیال ہے کہ مصر کا سب سے بڑا اپوزیشن گروپ اخوان المسلمین ملک پر قابض ہو کر اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو ختم کر سکتا ہے جس کے پورے خطے پر بھارتی اثرات ہوں گے۔

لیکن ٹونی بلیئر نے کہا کہ اس گروپ کے تناظر میں سمجھ داری کا رویہ یہ ہے کہ ’ہسٹیریا‘ پیدا نہ کیا جائے۔ ’وہ دہشت گرد یا انتہا پسند نہیں ہیں۔‘

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اخوان المسلمین کے بارے میں آسودہ خاطر بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ ’اس طرح کی سیاسی جماعت نہیں ہیں جسے آپ یا میں تسلیم کر لیں گے۔‘

برطانیہ میں اپنے دورِ اقتدار میں ٹونی بلیئر امریکہ کے ساتھ ساتھ حسنی مبارک کے قریبی حلیف تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ حسنی مبارک کے دور میں مصر میں معاشی حالات بہتر ہوئے لیکن انھوں نے اپنے عہد میں تبدیلی کی قوتوں کو دبائے رکھا۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایسا لمحہ ہے جس میں پورے کا پورا مشرقِ وسطیٰ اپنے محور پر گھومتا ہوا تبدیلی، جدیدیت اور جمہوریت کی طرف جا سکتا ہے جس کا سب کو فائدہ ہوگا۔