’اٹارنی جنرل کی تنبیہ نظر انداز‘

برطانیہ کے سابق وزیراعطم ٹونی بلیئر کے مطابق انھوں نے عراق پر حملے سے متعلق لارڈ گولڈ سمتھ کی تنبیہ کو نظر انداز کیا تھا۔
اس وقت کے اٹارنی جنرل لارڈ سمتھ نے وزیراعظم ٹونی بلیئر کو خبردار کیا تھا کہ عراق پر حملے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی نئی قراردار یا حمایت آنے تک عراق پر حملہ کرنا غیر قانونی ہو گا۔
جمعہ کو ٹونی بلیئر عراق پر حملے میں شامل ہونے کے برطانوی فیصلے پر تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سامنے دوبارہ پیش ہوئے۔
کمیشن کے سامنے اپنے تحریری بیان میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ انھوں نے اُس وقت کے اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ کی اِس تنبیہ کو نظر انداز کردیا تھا کہ اقوام متحدہ کی مزید حمایت کے بغیر عراق پر حملہ کرنا غیر قانونی ہو گا کیونکہ یہ ’ تنبیہ عارضی‘ تھی۔
سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انھیں یقین تھا کہ تمام حالات کا ادارک ہونے کے بعد ان کے اعلیٰ قانونی افسر اپنی اس رائے کو تبدیل کر لیں گے کہ اقوام متحدہ کی دوسری قرار داد ضروری ہے۔
اس انکوائری کمیشن کی سربراہی سر جان چلکوٹ کر رہے ہیں جس میں عراق پر حملے میں برطانیہ کے کردار اور اس کے بعد کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
ٹونی بلیئر نےانکوئری کمیشن کے سامنے تحریری بیان میں مزید کہا کہ ’وہ اُس وقت اس مرحلے تک نہیں پہنچے تھے کہ جہاں ان سے مشاورت کی باضابط درخواست کی جاتی یا پھر وہ خود مشورہ دیتے۔‘
’ میں اس موقف پر قائم رہوں گا کہ ایک اور قراردار ضروری نہیں تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ وہ لارڈ گولڈ سمتھ کے عراق پر حملے کے حوالے سے قانونی تحفظات سے آگاہ تھے۔
سابق برطانوی اٹارنی جنرل نے اس کمیشن میں بیان دیا تھا کہ دو ہزار تین میں عراق کے تنازعے سے پہلے وہ سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے موقف سے مطمئن نہیں تھے۔
سابق اٹارنی جنرل نے چودہ جنوری دو ہزار تین کو ان سے اقوام متحدہ کی طرف سے فورس کے استعال کی اجازت کے لیے ایک دوسری قرارداد کو ضروری بتایا تھا جبکہ اس سے اگلےہی دن وزیر اعظم نے اراکین اسمبلی کو بتایا تھا کہ اگرچہ اقوام متحدہ کی دوسری قراردار قابل ترجیح ہے لیکن حالات کچھ ایسے ہیں کہ اُن میں یہ ’ناگزیر نہیں‘ ہے۔
سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جنوری دو ہزار تین میں ٹونی بلیئر کا یہ بیان ان کے قانونی مشورہ سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
واضح رہے کہ اس کمیشن میں پہلی بار پیشی کے موقع پر سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق پر حملے میں شمولیت کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اس فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے اور اگر انھیں یہ فیصلہ دوبارہ کرنا پڑے تو وہ پھر یہی فیصلہ کریں گے۔
انھوں نے کہا تھا کہ عراق کے صدر صدام حسین کو ہٹانے کے بعد دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ امید ہے کہ ان کی سابق امریکی صدر جارج بش سے عراق جنگ سے متعلق ہونے والی نجی گفتگو اور عراق کے خطرے کے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات کے حوالے سے پوچھا جائے گا۔
چلکوٹ کمیشن کے سربراہ سر جان نے رواں ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے انکوائری کمیشن میں کی جانے والی باتوں کو منظر عام پر لانے کی اجازت نہیں ملنے پر انھیں’مایوسی‘ ہوئی ہے۔
جنگ مخالف تنظیم ’سٹاپ دی وار‘ کے ایک کارکن کرس نائنہم کا کہنا ہے کہ ’چلکوٹ انکوائری میں سامنے آنے والے شواہد سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ٹونی بلیئر نے عراق پر حملے کی قانونی حیثیت پر عوام اور پارلیمنٹ سے جھوٹ بولا تھا۔‘
’بلاآخر اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ عراق جنگ نہ صرف جرم تھا بلکہ تباہ کن عمل تھا۔‘
اس انکوائری کمیشن کی سربراہی سر جان چلکوٹ کر رہے ہیں جس میں عراق جنگ میں برطانیہ کے کردار اور اس کے بعد کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
کمیشن اس معاملے پر نومبر دو ہزار نو سے کھلی سماعت کر رہا ہے اور سابق وزیراعطم ٹونی بلیئر سمیت سابقہ لیبر حکومت کے کئي وزراء، سینیئر فوجی حکام، اعلیٰ سول ملازمین اور سفارت کاروں سے سوالات کیے گئے ہیں۔
اس وقت کمیشن آخری مرحلے کی پوچھ گچھ کر رہا ہے اور امکان ہے کہ اس برس موسم گرما تک کمیشن کی رپورٹ تیار ہوجائےگي۔







