عراق پر حملہ، ٹونی بلیئر کی دوبارہ پیشی

عراق پر حملے میں شامل ہونے کے برطانوی فیصلے پر تحقیقات کرنے والے کمیشن میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر دوبارہ پیش ہو رہے ہیں۔
اس کمیشن میں سال دو ہزار تین میں عراق جنگ میں ان کے کردار سے متعلق سوالات کیے جائیں گے۔
جمعہ کو ٹونی بلیئر جب کمیشن کے سامنے دوبارہ پیش ہونگے تو توقع ہے کہ ان سے پہلے پیش کیے گئے شواہد اور سابق اٹارنی جنرل کے بیان میں واضح تضادات کے حوالے سے سوالات پوچھے جائیں گے۔
سابق برطانوی اٹارنی جنرل نے اس کمیشن میں بیان دیا تھا کہ دو ہزار تین میں عراق کے تنازعے سے پہلے وہ سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے موقف سے مطمئن نہیں تھے۔
سابق اٹارنی جنرل نے چودہ جنوری دو ہزار تین کو ان سے اقوام متحدہ کی طرف سے فورس کے استعال کی اجازت کے لیے ایک دوسری قرارداد کو ضروری بتایا تھا جبکہ اس سے اگلےہی دن وزیر اعظم نے اراکین اسمبلی کو بتایا تھا کہ اگرچہ اقوام متحدہ کی دوسری قراردار قابل ترجیح ہے لیکن حالات کچھ ایسے ہیں کہ ان میں یہ ’ناگزیر نہیں‘ ہے۔
سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جنوری دو ہزار تین میں ٹونی بلیئر کا یہ بیان ان کے قانونی مشورہ سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
واضح رہے کہ اس کمیشن میں پہلی بار پیشی کے موقع پر سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق پر حملے میں شمولیت کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اس فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے اور اگر انھیں یہ فیصلہ دوبارہ کرنا پڑے تو وہ پھر یہی فیصلہ کریں گے۔
انھوں نے کہا تھا کہ عراق کے صدر صدام حسین کو ہٹانے کے بعد دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ امید ہے کہ ان کی سابق امریکی صدر جارج بش سے عراق جنگ سے متعلق ہونے والی نجی گفتگو اور عراق کے خطرے کے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات کے حوالے سے پوچھا جائے گا۔
چلکوٹ کمیشن کے سربراہ سر جان نے رواں ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے انکوائری کمیشن میں کی جانے والی باتوں کو منظر عام پر لانے کی اجازت نہیں ملنے پر انھیں’مایوسی‘ ہوئی ہے۔
جنگ مخالف تنظیم ’سٹاپ دی وار‘ کے ایک کارکن کرس نائنہم کا کہنا ہے کہ ’چلکوٹ میں سامنے آنے والے شواہد سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ٹونی بلیئر نے عراق پر حملے کی قانونی حیثیت پر عوام اور پارلیمنٹ سے جھوٹ بولا تھا۔‘
’بلاآخر اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ عراق جنگ نہ صرف جرم تھا بلکہ تباہ کن عمل تھا۔‘
امکان ہے کہ انکوئری کمیشن کے اجلاس کے موقع پر جنگ مخالف کارکن مظاہرے کریں گے۔
اس انکوائری کمیشن کی سربراہی سر جان چلکوٹ کر رہے ہیں جس میں عراق جنگ میں برطانیہ کے کردار اور اس کے بعد کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
کمیشن اس معاملے پر نومبر دو ہزار نو سے کھلی سماعت کر رہا ہے اور سابق وزیراعطم ٹونی بلیئر سمیت سابقہ لیبر حکومت کے کئي وزراء، سینیئر فوجی حکام، اعلیٰ سول ملازمین اور سفارت کاروں سے سوالات کیے ہیں۔
اس وقت کمیشن کی آخری مرحلے کی پوچھ گچھ کر رہا ہے اور امکان ہے کہ اس برس موسم گرما تک کمیشن کی رپورٹ تیار ہوجائےگي۔







