برطانیہ اور یورپی یونین میں نئے معاہدے کی راہ ہموار

ڈیود کیمرون کا مطالبہ ہے کہ یوروپی یونین سے نقل مکانی کرنے والوں کو چار برس تک کام کرنے کی اجازت ملنے پر روک لگنی چاہیے جس پر انہیں دیگر یوروپی ممالک سے سخت مخالفت کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنڈیود کیمرون کا مطالبہ ہے کہ یوروپی یونین سے نقل مکانی کرنے والوں کو چار برس تک کام کرنے کی اجازت ملنے پر روک لگنی چاہیے جس پر انہیں دیگر یوروپی ممالک سے سخت مخالفت کا سامنا ہے

برطانوی وزیواعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں رکنیت کے لیے نئے معاہدے پر دوبارہ سے بات چیت کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔

ڈیود کیمرون کا مطالبہ ہے کہ یوروپی یونین سے نقل مکانی کرنے والوں کو چار برس تک مالی مدد پر پابندی لگنی چاہیے جس پر انھیں دیگر یورپی ممالک کی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

فرانس اور جرمنی جیسے ممالک اس بات پر مصر ہیں کہ کسی بھی معاہدے میں لوگوں کی آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنانا ضروری ہے جبکہ کیمرون یورپی یونین کے چار اہم نکات میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ برسلز میں ہونے والے یوروپی یونین کے اجلاس میں ’اچھی پیش رفت ہوئی ہے‘ لیکن فروری میں ہونے والی دوسری میٹنگ میں اس پر کسی حتمی معاہدے پر پہچنا مشکل ہوگا۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا کہ ہم پر امید ہیں کیونکہ ہم سب سمجھوتہ چاہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا کہ ہم پر امید ہیں کیونکہ ہم سب سمجھوتہ چاہتے ہیں

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا ’ہم مشکل کو آسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کوشش کر رہے ہیں جس کی کسی دوسرے ملک نے پہلے کوشش نہیں کی۔ اور وہ ہے اس یوروپی یونین میں ہماری پوزیشن پر دو بارہ بات چیت، ہمارے منتخب کردہ وقت پر برطانوی عوام کی رضامندی سے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہوا یہ ہے کہ ہم نے برطانیہ کے لیے ایک بہتر معاہدے کے لیے ایک بڑا قدم آگے بڑھایا ہے۔ اب بھی بہت سا مشکل کام کرنا باقی ہے لیکن اس کے ذریعے ایک بہتر معاہدے کا راستہ نکلا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’کمیشن کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں بلکہ اس کا حل نکل آئےگا، اور ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم اس کا حل دھونڈ لیں گے۔‘

یورپی کاؤنسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم نے اپنی پوزیشن رکھی، خاص طور پر آزادانہ نقل و حرکت اور کام کے متعلق سے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی لیڈروں نے اس پر تشویش بھی ظاہر کی ہے لیکن وہ اس پر سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جو ممالک یوروپی زون سے باہر ہیں ان کا تحفظ بھی ضروری ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنڈیوڈ کیمرون کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جو ممالک یوروپی زون سے باہر ہیں ان کا تحفظ بھی ضروری ہے

انھوں نے کہا ’اس مثبت بات چیت کی بنیاد پر ہی ہم نے اس کے حل کے لیے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جو بھی چار نکات اٹھائے ہیں اس پر ایک ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔‘

جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ’ہم پر امید ہیں کیونکہ ہم سب سمجھوتہ چاہتے ہیں۔ لیکن اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ معاہدے میں تبدیلی ممکن ہوسکتی ہے۔ اب نہیں تو آگے چل کر۔‘

فرانس کے صدر فرنسوا اولاند کا کہنا تھا کہ مسٹر کیمرون کے مطالبات کو جگہ مل سکتی ہے لیکن یورپی یونین کے اصول و ضوابط کا احترام بھی ضروری ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے سربراہ ژاں کلاڈ نے کہا کہ اس بارے میں برطانوی وزیراعظم کی تجاویز پر عمل مشکل ہے اور فروری سے پہلے پہلے ان پر گہرائی گیرائی سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈیوڈ کیمرون کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جو ممالک یورپی زون سے باہر ہیں ان کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ وہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نئے رشتے چاہتے ہیں اور ان نئے تعلقات پر وہ 2017 میں ریفرنڈم بھی کرانا چاہتے ہیں۔