ڈنمارک: یورپی یونین کے قوانین پر ریفرنڈم، حکومت کو شکست

،تصویر کا ذریعہAP
ڈنمارک میں ہونے والے ریفرنڈم کے حتمی نتائج کے مطابق وہاں کے لوگوں نے سرحدوں پر یورپی یونین کے قوانین کے نفاذ کو مسترد کردیا ہے۔
ان قوانین کے نفاذ کی صورت میں ڈنمارک اور یورپی یونین کے تعلقات مزید مستحکم ہوسکتے تھے۔
ڈنمارک کی حکومت، یورپی یونین کے داخلی امور سے متعلق بعض قوانین سے استثنی کے حق سے، دستبردار ہونے خواہش مند تھی۔
لیکن ووٹوں کی گنتی ہونے کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 53 فیصد لوگوں نے حکومت کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔
انتخاب کا یہ عمل ایک ایسے وقت پر ہوا جب یورپ کو پناہ گزینوں کی بہت بڑی تعداد کا سامنا ہے اور فرانس کے شہر پیرس پر چند ہفتے قبل حملے بھی ہوئے ہیں۔
ڈنمارک کے وزیر اعظم لارس لوک راسموسین کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک واضح ’نہیں‘ ہے۔‘ اور وہ ووٹرز کے فیصلے کا ’مکمل طور پر احترام‘ کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
حزب اختلاف کی حمایت کے ساتھ حکومت نے اس ریفرنڈم میں ’ہاں‘ کے لیے انتخابی مہم چلائی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ پیرس جیسے حملوں کی صورت میں یہ تجاویز ڈنمارک کے لیے مددگار ثابت ہوگیں۔
پیرس حملوں میں ملوث کئی حملہ آور فرانسیسی شہری تھے جو کہ پڑوسی ملک بیلجیم میں رہائش پذیر تھے۔ بچ جانے والے ایک مسلح حملہ آور صالح عبدالسلام کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ رواں برس 13 نومبر کو پیرس پر خودکش دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات کے بعد وہ فرانس کی سرحد پار کرگئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں ڈنمارک کو اب یورپی یونین کے شدت پسندی، منظم جرائم سے نمٹنے، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یورو پول میں شامل رہنے کے لیے الگ سے ایک معاہدہ کرنا پڑے گا۔
ڈنمارک کے خبر رساں ادارے رٹزو سے بات کرتے ہوئے حکومتی جماعت وینسٹر کے سورن گیڈ کا کہنا تھا: ’ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ڈنمارک کے عوام کے حق میں بہترین معاہدہ کیا جائے۔ لیکن یہ ایک مشکل کام ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
امیگریشن مخالف اور پارلیمان میں غاس موسن حکومت کی حمایتی جماعت ڈینش پیپلز پارٹی (ڈی پی پی) نے برسلز کے ہاتھوں میں اپنی مزید خود مختاری دینے سے بچنے کے لیے اس ریفرینڈم میں ’نہیں‘ کے لیے انتخابی مہم چلائی تھی۔
ریفرنڈم میں ’ہاں‘ میں ووٹ پڑنے کی صورت میں بھی ڈنمارک کے یورپی یونین کےامیگریشن قوانین کا حصہ نہ بننے پر کوئی اثرات مرتب نہ ہوتے تاہم ڈی ڈی پی کا کہنا ہے کہ ایسا ہونے کی صورت میں آگے چل کر یورپی یونین امیگریشن کے تعلق سے اپنے قوانین ڈنمارک پر مسلط کردیتی۔
ڈنمارک کے بر عکس برطانیہ اور آئرلینڈ یورپی یونین کے انصاف اور داخلی امور سے متعلق قوانین کا حصہ ہیں جس کے تحت ان کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ ان قوانین کو ان کی انفرادی نوعیت کے اعتبار سے تسلیم یا مسترد کرسکتے ہیں۔
ڈنمارک میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج برطانیہ کی دلچسپی کا بھی باعث ہیں۔ برطانیہ کی حکومت یورپی یونین میں شامل رہنے کے حوالے سے ریفرنڈم کروانے سے قبل یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات پر دبارہ گفت و شنید کی کوشش کر رہی ہے۔







