’کاربن اخراج کمی، بڑے اہداف متعین کریں‘

کوپن ہیگن
،تصویر کا کیپشنکوپن ہیگن اجلاس میں ایک سو بانوے ممالک کے پندرہ ہزار مندوبین شریک ہو رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کوپن ہیگن اجلاس ایک تاریخی اجلاس ثابت ہوگا۔

ڈنمارک کے دارالحکومت میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے موقع پر یوو ڈی بوئر نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کو عالمی حدت کا مقابلہ کرنے کے لیے ماحول کیلیے مضر گیسوں کے اخراج میں کمی کے بڑے اہداف طے کرنے چاہیئیں۔

<link type="page"><caption> کوپن ہیگن اجلاس کی تیاریاں: تصاویر میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/12/091207_pics_copenhagen_preps_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوپن پیگن اجلاس ایک تاریخی اجلاس ثابت ہوگا لیکن ضروری یہ ہے کہ یہ تاریخ صحیح قسم کی تاریخ ہو۔

دنیا کے ایک سو بانوے ممالک کے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں جمع ہیں اور پندرہ روزہ اجلاس کے دوران کیوٹو معاہدے کے بعد ماحولیاتی تبدیلی پر نیا معاہدہ تیار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس اجلاس میں امریکی اور فرانسیسی صدر اور بھارتی وزیراعظم سمیت درجنوں اہم رہنما بھی شریک ہوں گے

اقوامِ متحدہ کے چیف ماحولیاتی سائنسدان راجندا پچوری نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی رہنما کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے پندرہ ہزار مندوبین اور سو عالمی رہنماؤں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس اجلاس میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسے ایک ایسا موقع قرار دیا جا رہا ہے کہ جب دنیاماحولیاتی تبدیلیوں کی وجوہات اور اثرات پر فیصلہ کن قدم اٹھا سکتی ہے۔ اس اجلاس میں ہونے والا معاہدہ سنہ 1997 کے کیوٹو پرٹوکول کی جگہ لے گا جس کے اہداف کی مدت سنہ 2012 میں ختم ہو رہی ہے۔

اس اجلاس کے اہم اہداف میں ترقی یافتہ ممالک میں کاربن اخراج میں کمی، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی مالی مدد اور ایک سنہ 2030 تک دنیا بھر میں جنگلوں کی کٹائی کے خاتمے کے لیے ایک کاربن ٹریڈنگ سکیم شامل ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلیوں پر اقوامِ متحدہ کا مذاکراتی عمل گزشتہ دو برس سے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے لیکن اس کی رفتار اس قدر سست تھی کہ حکام اور عالمی رہنما یہ سمجھنے لگے کہ قانونی طور پر پابند کرنے والے کسی معاہدے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ، چین اور بھارت کی جانب سے کیے جانے والے وعدوں نے اس عمل میں نئی روح پھونگ دی ہے۔. یہی نہیں بلکہ اس اجلاس میں سو عالمی رہنماؤں کی شرکت خود اقوامِ متحدہ کے لیے باعثِ مسرت ہے۔

دریں اثناء بی بی سی کے ایک عالمی پول سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں عموماً ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے عوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ گلوب سکین کے اس سروے میں چونسٹھ فیصد افراد نے عالمی حدت کو ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ قرار دیا۔ یہ تعداد ایک عشرہ قبل سے بیس فیصد زیادہ ہے۔

ادھر ماحول کے بچاؤ کیلیے کام کرنے والے افراد اور تنظیموں نے کوپن ہیگن اور دنیا بھر میں بارہ دسمبر کو مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ ان مظاہروں کا مقصد اجلاس کے مندوبین کو یہ پیعام دینا ہے کہ وہ سب سے بہتر معاہدے پر متفق ہوں۔ یاد رہے کہ سنیچر کے روز بھی مختلف یورپی شہروں میں مظاہرین نے اس کانفرنس میں ایک حتمی معاہدے پر دستخط کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ماحولیات کے بارے میں عالمی کانفرنس میں شرکت کرنے والے ماحولیاتی تحفظ کے علمبرداروں سے بھری ایک ریل گاڑی بھی کوپن ہیگن پہنچ گئی ہے۔’ کلائمیٹ ایکسپریس‘ نامی یہ ریل گاڑی بلجیئم کے دارلحکومت برسلز سے ایک روز قبل روانہ ہوئی تھی جس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ سفر کاربن کے اخراج سے پاک تھا۔