ترکی اور یورپ کا خطرناک معاہدہ

اگلے سال تک ممکنہ طور پر سات کروڑ 50 لاکھ ترک شہریوں کو شنگن ممالک میں بغیر ویزا سفر کی اجازت مل جائے گی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناگلے سال تک ممکنہ طور پر سات کروڑ 50 لاکھ ترک شہریوں کو شنگن ممالک میں بغیر ویزا سفر کی اجازت مل جائے گی
    • مصنف, پیئرز شولفتیلڈ
    • عہدہ, بی بی سی، برسلز

یورپ کے رہنما یورپی یونین کے ساحلوں پر پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے بیتاب ہیں، اور اِس کی پہلی جھلک برسلز میں کیے گئے معاہدے میں نظر آئی جہاں ترکی واضح فاتح کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یورپی یونین ترکی میں رہنے والے شامی پناہ گزینوں کے لیے تین ارب یورو کی ’ابتدائی‘ رقم فراہم کرے گا اور اگلے سال تک ممکنہ طور پر سات کروڑ 50 لاکھ ترک شہریوں کو شنگن ممالک میں بغیر ویزا سفر کی اجازت بھی مل جائے گی۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق صرف اِس ایک سال کے دوران سات لاکھ 38,465 پناہ گزین اور تارکین وطن یونانی جزائر میں داخل ہوئے ہیں۔ لیکن کیا ترکی مدد کرسکتا ہے؟

اگر عملی بات کی جائے تو یہ ممکن ہے۔ ترکی کی مغربی بندرگاہ اور شہر ازمیر کی گلیوں میں تارکین وطن کے گروہ کھلے عام گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جو دن کی روشنی میں ترک پولیس کی آنکھوں کے سامنے انسانی سمگلروں سے معاملات طے کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ صورت حال جلد ہی تبدیل بھی ہوسکتی ہے، ترکی کی پولیس نے پیر کے روز آیواجک کے علاقے میں مربوط آپریشن کر کے 1,300 تارکین وطن اور سمگلروں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ کافی مشہور علاقہ ہے جہاں یونان کے جزیرے لیزبوس سے بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔

ترک صدر نے یورپی یونین کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو تاریخ ساز قرار دیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنترک صدر نے یورپی یونین کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو تاریخ ساز قرار دیا تھا

پولیس لوگوں کی آمد کی تعداد کو کم کر سکتی ہے۔ ترکی کی ساحلی پٹی کافی طویل ہے اور اِن کارروائیوں سے لیزبوس میں کشتیوں کی آمد نہیں رک سکی ہے۔

معاہدے پر بہت لوگوں نے تنقید کی ہے۔

یورپین پارلیمان میں لبرل گروپ کے رہنما گی فرہوفسٹاڈ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ’ہماری مشکلات کا حل تلاش کرنے کے لیے دوسروں کو رشوت‘ دینے کی کوشش ہے۔

تارکین وطن کو واپس بھیجنا

مقدونیہ اور یونان کی سرحد پر تین ہزار پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمقدونیہ اور یونان کی سرحد پر تین ہزار پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں

یورپین کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ رقم شامی پناہ گزینوں کی ترکی میں دیکھ بھال کے لیے ہے نہ کہ ترک حکومت کے لیے۔

اور بغیر ویزا کے سفر کی اجازت ترکی پر منحصر ہے، دونوں خلاف قانون نقل مکانی کو روکیں اور یورپ - ترکی میں دوبارہ داخلہ دینے کے معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے جس کے مطلب ہے کہ کسی کو اگر پناہ نہ دینی ہو تو اُس کو واپس ترکی بھیجا جا سکتا ہے۔

اِس وقت مقدونیہ کی سرحد کے ساتھ یونانی سرحد پر 3,000 پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں۔ اِن میں ایرانی، پاکستانی، صومالی، مراکشی بھی شامل ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت اِن سب کو ترکی بھیجا جا سکتا ہے۔

ترکی اور یونان کے مابین پہلے ہی ایسا معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت یونان کی جانب سے تقریباً 9,000 لوگوں کو واپس بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی۔ لیکن جنوری سے ستمبر کے دوران ترکی نے صرف آٹھ افراد کو واپس لیا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کتنا کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ترک ردعمل کا خطرہ

تو کیا ترکی اپنی سودے بازی کو اختتام تک پورا کرپائے گا؟ ‎

یقینی طور پر صدر رجب طیب اردوغان ویزے کے بغیر سفر کے لیے اپنے دُوررس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے پر خوش ہوں گے۔

لیکن اگر یورپین کمیشن اگلے سال ویزے میں نرمی کی سفارش کرتا ہے تو اِس بات کا قوی امکان ہے کہ رکن ممالک اِس پر اعتراض کریں۔ شاید فرانس اِس معاہدے کو روکنے والے ممالک کی سربراہی کرے۔

یورپی تھنک ٹینک سے تعلق رکھنے والے سینان اولگین نے پیشگی خطرے سے خبردار کیا ہے: ’انقرہ ویزے پر سے پابندی اُٹھنے کے سنگ میل کی جانب قدم بڑھانے کے لیے مقامی طور پر اِس پیکیج کو بیچ رہا ہے۔ اگر یورپی یونین یہ فراہم نہیں کر پاتا ہے تو اِس کا ردعمل ہو گا۔‘

اگر اِس ردعمل سے پناہ گزینوں کی واپسی کا معاہدہ ناکام ہو گیا اور سرحدی پولیس سکون میں آ جائے تو ہر چیز واپس نقطہ آغاز پر پہنچ جائے گی۔

یہ سودا سیاسی خطرے سے پر ہے۔ یورپی یونین نے ترک حکومت کی بڑھتی ہوئی آمرانہ پالیسیوں پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ وہاں گذشتہ ہفتے ہی دو مشہور صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جب بات ترکی پر آئی ہے، تو یوپی یونین وقتی مدد کے لیے اپنے بنیادی اصولوں یعنی قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار، صحافتی آزادی کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار ہے۔

اگر معاہدہ کام کرتا ہے تو جرمن چانسلر انگیلا میرکل چاہیں گی کہ یورپ کی دیگر ریاستوں کے سربراہوں کو چار لاکھ پناہ گزینوں کی آبادکاری پر آمادہ کیا جائے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناگر معاہدہ کام کرتا ہے تو جرمن چانسلر انگیلا میرکل چاہیں گی کہ یورپ کی دیگر ریاستوں کے سربراہوں کو چار لاکھ پناہ گزینوں کی آبادکاری پر آمادہ کیا جائے

اور اگر پناہ گزینوں کی تعداد بڑی تیزی سے کم ہوتی ہے تو آگے جاکر رہنماؤں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ شام میں جاری تنازعے میں لاکھوں مایوس شامی پناہ گزین راہ فرار اختیار کریں گے۔

جرمنی کے اخبار کے مطابق اگر معاہدہ کام کرتا ہے تو جرمن چانسلر انگیلا میرکل چاہیں گی کہ یورپ کی دیگر ریاستوں کے سربراہوں کو چار لاکھ پناہ گزینوں کی آبادکاری پر آمادہ کیا جائے۔

اِس تجویز کو یورپ میں حمایت حاصل نہ ہو لیکن اِس مسئلے کے آغاز سے ہی میرکل اپنے راستے پر ہیں اور وہ اِس کے لیے طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت پر بات کرتی آئی ہیں۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ مخصوص اعداد و شمار پر تو غور نہیں کیا جائے گا لیکن دسمبر میں ہونے والی یورپی یونین کی کانفرنس میں اِس خیال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اِس کو یورپین کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر کی جانب سے بھی خوش آمدید کہا گیا تھا۔

ایک لمحے کے لیے یورپ کے رہنما اِس کمزور معاہدے پر سٹہ لگا رہے ہیں کہ اِس معاہدے کا زیادہ انحصار ناقابل اعتبار ساتھی پر ہے۔