کل کے یہودی اور آج کے شامی

شامی مہاجرین کو امریکی سرزمین پر پناہ دینے کے تناظر میں امریکہ میں جاری بحث میں کچھ لوگ آج کے شامیوں اور جنگ عظیم دوئم کے دنوں میں ہولوکاسٹ سے جان بچا کر فرار ہونے والے یہودیوں کے درمیان مماثلت کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔

پیرس میں گذشتہ ہفتے کے حملوں کے بعد ریپبلکن پارٹی کے کئی صدارتی امیدوار اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ دس ہزار شامیوں کو امریکی ویزا دینے کے منصوبے کو معطل کر دے۔

صدارتی امیدواروں کے علاوہ درجنوں امریکی ریاستوں کے گورنروں نے بھی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ شامیوں مہاجرین کو اپنی ریاستوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ ریاست لوزینا کے گورنر ڈیوڈ وِٹُر تو ٹیلی ویژن کے ایک اشتہار میں بھی آ رہے ہیں جس میں وہ ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدواروں پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ شامی مہاجرین کو پناہ دے کر امریکی شہریوں کو نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے حملوں کا نشانہ بنا دیں گے۔

جارج بُش کے بھائی اور فلویڈا کے گورنر جیب بُش اور ٹیکسس کے گورنر سینیٹر ٹیڈ کروز کا کہنا ہے کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ شام سے تعلق رکھنے والے عیسائی مہاجرین کو ترجیح دے اور مسلمان مہاجرین کو دیگر مسلمان ممالک میں پناہ لینے میں مدد فراہم کرے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی کالم نگار جینل روس کے بقول شامی مہاجرین کو اس قسم کے مذہبی امتحان سے گزارنا ایک ایسے ملک کے لیے مکروہ تجویز ہو گی ’جہاں اس سے پہلے آنے والے مہاجرین دولت کمانے اور اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے کی تلاش میں آئے تھے۔‘

جینل روس وہ اکیلی تجزیہ کار نہیں ہیں جنھوں نے شامی پناہ گزینوں کے حوالے سے ہولوکاسٹ کے ستائے ہوئے یہودیوں کی مثال دی ہے، بلکہ کئی دیگر ناقدین نے بھی یہی تاریخی حوالہ دیا ہے۔

’جنگ عظیم دوئم کے شروع ہونے سے کچھ ہی عرصہ پہلے امریکہ کے اس فیصلے کی وجہ سے لاتعداد یہودی ہولاسٹ کی نذر ہو گئے کہ یورپی یہودی اپنی رشتے داریوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر امریکہ پہنچنے کے بعد نازیوں کے لیے خفیہ معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ بن جائیں گے۔‘

کئی امریکی تجزیہ کاروں نے شامی مہاجرین کو پناہ دینے کے تناظر میں سینٹ لوئیس نامی بحری جہاز کی بھی خاص طور پر مثال دی ہے۔ یاد رہے کہ سینٹ لوئیس وہ بحری جہاز تھا جس پر جرمنی سے فرار ہونے والے 900 سے زائد یہودی مہاجرین سوار تھے لیکن اس جہاز کو پہلے کیوبا اور اس کے بعد امریکہ نے بھی اپنے ساحل پر لنگر انداز سے روک دیا تھا۔

اس بحری جہاز کو مجبوراً واپس مغربی یورپ جانا پڑا تھا، جہاں 900 میں سے تقریباً ایک چوتھائی لوگوں کو ہولوکاسٹ میں مار دیا گیا تھا۔

امریکہ میں پالیسی سازی کی ایک مشاورتی تنظیم ’نسکانن سینٹر‘ کا کہنا ہے کہ سنہ 1940 میں امریکی دفترِ خارجہ نے جو قدم اٹھایا تھا ’اس نے سینٹ لوئیس کی واپسی کے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی تھی، کیونکہ اس فیصلے میں جزائر غرب الہند کے تمام ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ بھی یورپ سے آنے والے یہوریوں کو اپنے ہاں پناہ دینے سے انکار کر دیں کیونکہ ’ہو سکتا ہے کہ مہاجرین کے لبادے میں خفیہ ایجنٹ بھی ان کے ہاں گُھس جائیں گے۔‘

اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے کہا تھا کہ ’تمام مہاجرین کی تلاشی اور جانچ پڑتال ضروری ہے کیونکہ بدقسمتی یہ ہے کہ کچھ ممالک میں پہنچنے والے مہاجرین کے درمیان خفیہ ایجنٹ بھی پائے گئے ہیں۔‘

کچھ تجزیہ کاروں نے جو باتیں اور جن عوامی جذبات کا اظہار شامی پناہ گزینوں کے بارے میں کیا جا رہا ہے ان کا تقابل ان باتوں سے بھی کیا جو سنہ 1930 کی دہائی میں یہودیوں کے بارے میں کہی جاتی تھیں۔

اس سلسلے میں یہ تجزیہ کار سنہ 1930 میں مشہور امریکی میگزین ’فارچون‘ کی جانب سے کیے جانے والے ایک عوامی جائزے کی مثال دیتے ہیں۔اس جائزے میں پوچھا گیا تھا کہ آیا یورپ سے آنے والے سیاسی پناہ گزینوں کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے یا نہیں؟ تقریباً 70 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ’صرف شرائط کے تحت ہمیں اجازت دینی چاہیے، لیکن ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ انھیں امریکہ سے باہر ہی رکھا جائے۔‘

اس جائزے میں صرف پانچ فیصد لوگوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو چاہیے کے وہ مہاجرین کے لیے کوٹے میں اضافہ کرے۔

ایک سال بعد کیے جانے و الے جائزے میں 61 فیصد امریکی عوام کا کہنا تھا کہ امریکہ کو یورپ سے دس ہزار بچوں کو اپنے ہاں پناہ نہیں دینی چاہیے۔ ان بچوں کی اکثریت بھی یہودی تھی۔

اس عوامی رائے کا موازنہ ریاست نیو جرسی کے گورنر کرِس کرسٹی کے حالیہ بیان سے کیجیے۔ گورنر کرسٹی نے پیر کو کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ جب تک ان کی مکمل جانچ پڑتال نہ کر لی جائے، پانچ برس کی عمر کے یتیم بچوں سمیت تمام شامی مہاجرین کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے۔‘

واشنگٹن پوسٹ کے اشان تھارور لکھتے ہیں کہ اُس وقت ’مغربی ممالک کی اکثریت یہودیوں کی حالتِ زار کو یا تو شک کی نظر سے دیکھ رہی تھی یا تعصب کی نظر سے ( اور یہودیوں کے ساتھ ہمدردی بھی صرف اسی وقت جاگی جب ان کا وحشیانہ قتلِ عام شروع ہو چکا تھا)۔ ہمیں آج جب امریکہ میں شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے یا نہ دینے کی بحت زوروں پر ہے تو ہمیں اُن دنوں کے عوامی جذبات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔‘

باقی تجزیہ کاروں کے برعکس میکس فِشر نے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں کے بیانات پر کھل کر تنقید کی ہے۔

میکس فِشر کے بقول ’ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی سیاستدان اِن بے قصور مردوں، عورتوں اور بچوں کو صرف اس وجہ سے سزا دینے پر تلے ہوئے ہیں کہ یہ لوگ انھیں اپنے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے تاریخ میں کبھی کچھ ایسا ہوا ہی نہیں، ایسے جیسے تاریخ میں ہمیں کوئی مثال نہیں ملتی جس سے ہم سبق سیکھ سکیں۔‘

دوسری جانب قدامت پسند خیالات کی ایک نمائدہ ویب سائٹ ’نیوز مشیٹی‘ کے مدید ایڈ سٹرائیکر کے خیال میں شامی مہاجرین کا یہودی مہاجرین سے موازنہ کرنا یہودی پناہ گزینوں کی توہین ہے۔

’جو یہودی امریکہ آئے تھے، وہ پرتشدد یا جنگجو لوگ نہیں تھے۔ انھوں نے اپنی کمر کے ارد گرد بم نہیں باندھے ہوئے تھے اور نہ وہ تھیٹروں میں خود کش حملے کر رہے تھے۔ وہ ریستورانوں میں گھُس کر وہاں بیٹے لوگوں کو چن چن کر گولیاں نہیں مار رہے تھے اور نہ ہی وہ لوگ ہر جگہ ایک نئی خلافت بنانے کے چکر میں تھے۔ ہاں اتنا ضرور تھا کہ وہ ریستورانوں، بیگل بنانے والی بیکریوں اور مزاحیہ اداکاری کے میدانوں میں اپنی شناخت بنا رہے تھے۔‘

ایڈ سٹرائیکر کے بقول مسلمان پناہ گزین شرعی قوانین کی حمایت کرتے ہیں اور دوسرے مذاہب کے روادار نہیں ہیں اور ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دوسرے مذاہب کے لوگوں کو جان سے مار دینا چاہتے ہیں۔

روزنامہ وال سٹریٹ جرنل کے مدیران کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ افسوسناک بات ہے کہ شامی پناہ گزینوں پر امریکہ کے دروازے بند کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر اوباما امریکہ کو دولتِ اسلامیہ سے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی قدم اٹھانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ مدیروں کے خیال میں صدر اوباما یہ کام بڑی آسانی سے کر سکتے تھے۔

اخبار کہتا ہے کہ ’عام لوگوں کے کوائف کی بھرمار یا مساجد اور تمام مسلمان طلبہ کی نگرانی کا موازنہ اس بات سے نہیں کر سکتے کہ عام امریکی کس قدر خود محسوسں کر رہے ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ اگر پیرس جیسا کوئی واقعہ شکاگو میں ہو جاتا ہے تو امریکی عوام کا ردعمل کیا ہوگا۔‘

جہاں تک جنگ عظیم دوئم کی مثالوں کا تعلق ہے تو یہ بات بائیں بازو کے رہنماؤں اور تجزیے نگاروں تک محدود نہیں۔

مثلاً اتوار کو ریبپلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند مارکو روبیو نے ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن پر تنقید کی ہے کہ وہ کھل کر کیوں نہیں کہتیں کہ امریکہ ’انتہا پسند اسلام کے خلاف‘ حالتِ جنگ میں ہے۔

جہاں تک امیگریشن یا امریکہ میں پناہ کی بات ہے، تو یہ صدارتی امیدواروں کی تقاریر کا ایک بڑا موضوع ہے، اور پیرس حملوں سے پہلے بھی اس کی بازگشت سنی جا سکتی تھی۔

لیکن پیرس حملوں کے بعد اس بحث میں پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی اور اخلاقیات کے موضوعات بھی زیر بحت آنا شروع ہو گئے ہیں، اور جب بات قومی سلامتی اور اخلاقیات کی ہوتی ہے تو 20ویں صدی کے تاریک باب کا ذکر زیادہ دور کی بات نہیں رہتی۔