دولتِ اسلامیہ کے حملوں پر واشنگٹن کے خدشات

انٹیلجنس حکام دولتِ اسلامیہ کو اُن منصوبوں سے دور رکھنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں: جان برنن

،تصویر کا ذریعہGetty Imaages

،تصویر کا کیپشنانٹیلجنس حکام دولتِ اسلامیہ کو اُن منصوبوں سے دور رکھنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں: جان برنن

پیرس میں دہشت گرد حملوں کے بعد واشنگٹن کے باسی پریشان ہیں کہ آیا وہ بھی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا ہدف بن سکتے ہیں۔ انھیں خطرہ کتنا لاحق ہےاس کا اندازہ لگانا تو مشکل ہے لیکن عوام میں بے چینی یقینی ہے۔

اپنی سیاہ رنگ کی فائل میں موجود ضخیم نوٹس پڑھتے ہوئے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل جان برنن نے ایک تھنک ٹینک کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں بتایا کہ دولتِ اسلامیہ نے جس طریقے سے عراق اور شام میں لوگوں کو قتل کیا ہے تو انھیں روکنا ’ناگزیز‘ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انٹیلجنس حکام شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو اُن منصوبوں سے دور رکھنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔

امریکہ میں دولتِ اسلامیہ کے حملوں کا خطرہ تھا لیکن اب ممکنہ حملوں سے بچنے کے لیے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد جو بظاہر دولتِ اسلامیہ نے کیے، ان میں 129 افراد ہلاک ہوئے اور اس کے بعد دولتِ اسلامیہ نے ایک نئی ویڈیو شائع کی جس میں کہا گیا کہ امریکہ اور یورپ کے مختلف علاقوں میں بھی حملے کیے جائیں گے۔

اس سے پہلے بھی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے مجھے بتایا تھا کہ دولتِ اسلامیہ نے امریکہ کو دھمکی دی تھی لیکن اب شدت پسندوں نے کہا کہ وہ واشنگٹن کے عوام کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

اسی وجہ سے واشنگٹن کے تھیک ٹینک کے آڈیٹوریم موجود افراد پریشان تھے۔ ان میں سے کئی افراد ستمبر 2001 میں پینٹاگون پر ہونے والے حملے کے وقت بھی یہیں موجود تھے۔

انٹیلیجنس حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے مقابلے میں دولتِ اسلامیہ سے لاحق خطرات مختلف نوعیت کے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے لیے یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ یہ دھمکیاں کتنی سنگین ہیں اور کس حد تک واشنگٹن اور دوسری شہروں کے لوگوں کو خطرہ لاحق ہے۔

دولتِ اسلامیہ اس معاملے میں قدرے نئی ہے اور تحقیق کے لیے کم اعداد و شمار موجود ہیں۔

امریکہ سے کئی افراد شدت پسندوں کے ساتھ لڑنے کے لیے شام گئے ہیں اور وہ اس لڑائی کو واپس امریکہ بھی لا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ سے 23 افراد نے شام جا کر جہادی تنظیموں میں شمولیت اختیار کی، جن میں نو ہلاک ہو گئے اور پانچ حراست میں ہیں جبکہ باقی کچھ کا پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

ان لاپتہ ہونے والے امریکیوں سے خطرہ کم ہے لیکن محققین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد سے خطرہ زیادہ ہے جو شام کبھی نہیں گئے اور امریکہ ہی میں رہتے ہیں یا پھر ایسے افراد جو آسانی سے امریکہ آ جا سکتے ہیں، دولتِ اسلامیہ کے لیے پیغام رسانی کر سکتے ہیں اور حملے کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اسی ہدف کو ذہن میں رکھتے ہوئے دولتِ اسلامیہ نے ان افراد کے لیے ایک گائیڈ بک شائع کی ہے جو مغربی ممالک جا کر خفیہ ایجنٹ بننا چاہتے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مغرب میں کیسے رہا جا سکتا ہے۔

اس گائیڈ بک میں بم بنانے کے بارے میں ہدایات، ہتھیار چھپانا، اور سراغ رسانی کے آلات سے کیسے بچا جائے جیسی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

اس کانفرنس میں امریکہ کے سابق مشیر برائے نیشنل سکیورٹی ہنری کسنجر نے اطالوی سفیر کی جانب دیکھا اور کہا کہ ’یہ تو خودکشی کے لیے نہایت موزوں ہے اور دہشت گردوں کا ہدف ہو سکتا ہے۔‘ کمرے میں موجود دیگر افراد کا بھی یہی خیال تھا۔

امریکی تھینک ٹینک سی ایس آئی ایس کے صدر جان ہیمری نے کہا کہ پیرس میں مختلف مقامات پر حملے کیے گئے، جس کے لیے مربوط منصوبہ سازی اور نیٹ ورک کی حمایت کی ضرورت ہے۔

فی الحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے پاس واشنگٹن میں ایسا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے جس کا اثر بھی ہو۔ ماہرین کے خیال میں دہشت گردی ایک وحشیانہ پراپیگنڈا ہے۔ دہشت گردی ایک ایسا پرتشدد اقدام ہے جس کے ذریعے سیاسی پیغام دیا جاتا ہے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خوف کی فضا پیدا کی جاتی ہے۔

اس لحاظ سے جب کہ واشنگٹن میں کانفرنس ہو رہی ہے تو دولتِ اسلامیہ شہر کی کسی بھی کافی شاپ کو نشانہ بنا کر کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔