پیرس حملوں کی تحقیقات،’حملہ آوروں کی تعداد نو تھی‘

فرانس میں سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونے والے حملوں سے متعلق ویڈیو فوٹیج میں ان حملوں میں ممکنہ طور پر ملوث نویں حملہ آور کی نشاندہی ہوئی ہے۔
فرانسیسی دارالحکومت میں جمعے کی شب چھ مختلف مقامات پر ہونے والے خودکش دھماکوں اور فائرنگ سے 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق ویڈیو میں حملہ آوروں کے زیر استعمال ایک گاڑی میں تیسرے شخص کو سوار دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا نواں حملہ آور بیلجیئم میں گرفتار ہونے والے دو مشتبہ حملہ آوروں میں شامل ہے یا یہ فرار ہو گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پولیس نے ان مقامات کی تلاشی لی ہے جن کے بارے میں قیاس ہے کہ وہ حملہ آوروں کے استعمال میں رہے تھے۔

ان حملوں میں ملوث آٹھ مشتبہ ملزمان میں سے ایک صالح عبدالسلام کی تلاش کے لیے بھی ایک بڑا آپریشن جاری ہے اور پولیس نے ایک ایسی کار کی تلاشی بھی لی ہے جسے صالح نے کرائے پر لیا تھا۔
بیلجیئم میں رجسٹرڈ یہ سیاہ رینو کلیو کار شمالی پیرس میں مونٹمارترے کے نزدیک کھڑی پائی گئی تھی۔
تحقیقات کرنے والوں کا خیال ہے کہ اسی کار میں حملہ آوروں کو بیلجیئم سے لایا اور لے جایا گیا تھا جہاں ان حملوں کی ممکنہ طور پر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
گذشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے فرانس کو ہلا کے رکھ دیا تھا اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
فرانسیسی وزیر داخلہ کے بقول گذشتہ 24 گھنٹوں میں مشتبہ شدت پسندوں کی گرفتاری کے لیے 128 چھاپے مارے گئے ہیں اور اب تک 28 افراد کو گرفتار کیا گیا اور درجنوں ہتھیار برآمد کیے گئے۔
فرانسیسی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ان چھاپوں کے دوران پیرس کے مضافات میں پولیس دہشت گردوں کے زیر استعمال اس محفوظ مکان تک پہنچ گئی ہے جو مشتبہ شدت پسند عبدالسلام کے بھائی براہیم نے کرائے پر حاصل کیا تھا۔
واضح رہے کہ براہیم ان شدت پسند حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔
فرانسیسی میڈیا پر ایک ہوٹل کے کمروں سے ملنے والی سرنجیں اور ٹیوبیں دکھائی گئیں جو بم کی تیاری کا سامان ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب فرانس کے وزیر داخلہ برنار کیزنیوو کا کہنا ہے کہ دہشت گرد حملوں کے بعد سے ایک لاکھ 15 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو حرکت میں لایا گیا ہے۔
مسٹر کیزنیوو کا کہنا تھا کہ فرانسیسی شہریوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کے بڑے پیمانے پر نقل وحمل کی جا رہی ہے۔ انھوں نے پولیس کو مزید سامان فراہم کرنے کے لیے مختص فنڈ میں اضافہ کے عزم کا اعادہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ صالح عبدالسلام حملوں کے بعد فرانس سے نکل کر اپنے آبائی ملک بیلجئیم بھاگ گئے ہیں۔ بیلجئیم کی پولیس نے مطلوب ملزم کی مزید تصاویر بھی جاری کی ہیں۔
بیلجیئم میں حکام نے عبدالسلام کی گرفتاری میں اب تک ناکامی کے باعث خطرے کا درجہ بڑھا دیا ہے اور منگل کو بیلجیئم اور سپین کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان ہونے والا میچ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔
بیلجیئم کی پولیس کا کہنا ہے سنیچر کو گرفتار کیے جانے والے سات افراد میں سے دو پر پیرس حملوں میں ملوث ہونے کے باعث فردِ جرم عائد کی گئی ہے جبکہ باقی پانچ افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق: ’دو افراد پر دہشت گردی کے اقدام اور پر تشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے فرد جرم عائد کی گئی ہے۔‘







