ترکی اور یورپی یونین میں تارکینِ وطن کے معاملے پر معاہدہ

،تصویر کا ذریعہAFP
یورپ میں تارکینِ وطن کی آمد کو کنٹرول کرنے کے لیے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔
ترکی مہاجرین کو اپنی سرحدوں میں محدود رکھنے کے بدلے میں تین ارب ڈالر سے زائد رقم اور سیاسی مراعات لےگا۔
ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو برسلز میں یورپی یونین کے حکام کے ساتھ ملاقات میں معاہدہ طے پا جانے کے بعد اپنے بیان میں آج کے دن کو یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کا ’تاریخی دن‘ قرار دیا۔
<link type="page"><caption> یورپ کو 2017 تک 30 لاکھ مہاجرین کا سامنا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151105_eu_migrants_millions_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> شادی کےخرچ کی رقم پناہ گزینوں کے نام</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151121_couple_funds_refugees_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’معاہدے پر عمل کیسے ہوگا یہ طے نہیں ہو سکا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151016_turkey_eu_deal_update_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
خیال رہے کہ رواں برس نو لاکھ پناہ گزین یورپ جا چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق شام، عراق اور افغانستان کے شورش زدہ علاقوں سے ہے اور اپنے سفر کے دوران انھوں نے ترکی میں عارضی طور پر قیام بھی کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ یورپی یونین نے دو برسوں میں ترکی کو تین ارب پاؤنڈ دینے کی پیش کش کی ہے تاکہ وہ اپنی سرحدوں پر سخت انتظامات اور ملک میں موجود تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی حالت زار کو بہتر بنا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب انقرہ کو امید ہے کہ ان مذاکرات کے ذریعے ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کی درخواست کو ایک نئی تحریک بھی ملے گی۔
ترکی اپنے شہریوں کے لیے یورپ میں ویزے کی پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تاہم ترکی میں بی بی سی نامہ نگار مارک لووین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے کچھ رکن ممالک میں ترکی کے سامنے جھکنے کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں جہاں حکومت کی جانب سے قانون اور جمہوریت کے احترام کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔
ترک صدر کے خلاف آرٹیکل لکھنے پر بائیں بازو کے حامی ترک اخبار مدیر اعلیٰ کو رواں ہفتے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔
تاہم دوسری جانب مذاکرات کے بعد یورپین کمیشن کے صدر جین کلاڈ ینکر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے ’اس صورتحال میں لے کر نہیں جائے گا کہ جہاں ہم ترکی سے اپنے بنیادی فرق اور اختلافات کو بھول جائیں، انسانی حقوق اور آزادی صحافت۔‘







