کراچی: رینجرز سے جھڑپ میں چار مبینہ شدت پسند ہلاک

شہر میں شدت پسندوں کے خلاف رینجرز آپریشن میں حالیہ تیزی گذشتہ جمعے کے بعد آئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشہر میں شدت پسندوں کے خلاف رینجرز آپریشن میں حالیہ تیزی گذشتہ جمعے کے بعد آئی ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نیم فوجی دستے رینجرز کے ساتھ ایک مقابلے میں چار مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

شہر میں گذشتہ پانچ روز کے دوران ایک ہی علاقے میں ہلاک ہونے والے مشتبہ شدت پسندوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کے منگھو پیر کے علاقے ناردرن بائی پاس پر اللہ بخش گوٹھ کے قریب موجود ہونے کی خفیہ اطلاع پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کا محاصرہ کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں ایک رینجرز اہلکار زخمی جبکہ چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

اس سے قبل ہفتے کے روز ناردرن بائی پاس پر بھی مقابلے میں چار مشتبہ شدت پسند ہلاک اور ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوگیا تھا۔

شدت پسندوں کے خلاف رینجرز آپریشن میں حالیہ تیزی گذشتہ جمعے کے بعد آئی ہے جب موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے بلدیہ کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں مسجد کی حفاظت پر مامور رینجرز اہلکاروں کہ نشانہ بنایا تھا جس میں چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے سلطان آباد، منگھو پیر، ہزارہ گوٹھ، ناتھا خان اور دیگر علاقوں میں کارروائیاں کر کے سو سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

ترجمان رینجرز کے مطابق ان میں کالعدم تنظیمیوں کے رکن بھی شامل ہیں تاہم ان کے نام اور وابستگی ظاہر نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ گذشتہ دو سالوں سے شہر میں رینجرز کی قیادت میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران حملوں، دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں میں رینجرز کے 31 اور پولیس کے 270 سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، یہ واقعات زیادہ تر بلدیہ، سائٹ اور منگھو پیر کے علاقے میں ہی پیش آئے ہیں۔

رینجرز کے مطابق حال میں ہی آپریشن کے نئے مرحلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور وکلا پر حملے میں ملوث ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو شکنجے میں لایا جائے گا۔

کراچی میں پانچ دسمبر کو بلدیاتی انتخابات منعقد ہونے ہیں، جن کی سکیورٹی کے انتظامات بھی رینجرز کو ادا کرنے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ رینجرز اہلکاروں پر حملہ ان انتخابات کو ملتوی کرانے کی سازش تھی۔