اسماعیلی بس حملہ کیس کے پبلک پراسیکیوٹر مستعفی

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے پبلک پراسیکیوٹر محمد خان برڑو اور مبشر مرزا مستعفی ہوگئے ہیں۔
ان سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کو سکیورٹی اور مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کیں۔
محمد خان برڑو نے بی بی سی کو بتایا کہ صفوراں واقعے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ملوث ہونے کی وجہ سے انھوں نے محکمہ داخلہ کو گزارش کی تھی کہ انھیں رینجرز کی سکیورٹی، محفوظ رہائش گاہ اور 30 لاکھ روپے پروفیشنل فیس ادا کی جائے۔
’محکمہ داخلہ سندھ نے ہماری درخواست سے اتفاق کرتے ہوئے اس کو وزارت قانون کو بھیج دیا، جس میں سے ڈیڑھ لاکھ روپے فیس مقرر کر کے باقی تمام مطالبات کو مسترد کر دیاگیا۔‘
محمد خان برڑو کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وزرات قانون میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو نہیں چاہتے کہ اس ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور اہل پراسیکیوٹر سامنے آ کر ان مقدمات کی پیروی کریں، اس لیے انھوں نے دیگر مطالبات تسلیم نہیں کیے صرف پروفیشنل فیس ڈیڑھ لاکھ روپے مقرر کر دی اور دیگر مطالبات مسترد کر دیے اس صورتحال میں ہمارے لیے یہ ہی بہتر ہے کہ مستعفی ہو جائیں کیونکہ ہم خودکشی کرنا نہیں چاہتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ کراچی میں انسداد دہشت گردی کے مقدمات کی پیروی کرنے والے سرکاری وکیل نعمت رندھاوا گذشتہ سال فائرنگ کے ایک واقعہ میں ہلاک ہوگئے جبکہ عبدالمعرؤف ایڈووکیٹ نے بیرون ملک پناہ لے رکھی ہے۔
محمد خان برڑو کا کہنا ہے کہ حالات کی سنگینی کی وجہ سے ان کے کئی ساتھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور کچھ مارے گئے جس کے بعد اس قسم کے ہائی پروفائل مقدمات میں کوئی بھی پیروی نہیں کرتا انھوں نے قومی مفادات میں یہ ذمہ داری اٹھائی تھی۔
رواں سال مئی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے نتیجے میں خواتین سمیت 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
محمد خان برڑو کا کہنا تھا کہ صفوراں واقعے میں عبوری چالان پیش ہو چکے ہیں۔
22 اکتوبر کو تین ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں بھی لگی ہوئی ہیں ان کا مستعفی ہونا اس مقدمے پر اثر انداز ضرور ہوگا۔







