یونان مقدونیا سرحد پر پھنسے تارکین وطن نے احتجاجاً ہونٹ سی لیے

یونان اور مقدونیا کی سرحد پر پھنسے غیر قانونی تارکین وطن نے سرحد پار کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً اپنے ہونٹ سی لیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایران سے تعلق رکھنے والے چھ تارکین وطن ن ایدومنی نامی گاؤں کے قریب سرح پر اپنے ہونٹ سی لیے۔
یونان اور مقدونیا کی سرحد پر سینکڑوں غیر قانونی تارکین وطن نے احتجاج اس وقت شروع کیا جب مقدونیا نے یونان سے داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی کر دی۔

واضح رہے کہ یورپی ممالک نے پیرس میں حملوں کے بعد سے سرحد پر چیکنگ سخت کر دی ہے۔
بلقان ممالک نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ وہ اپنی سرحد ان غیر قانونی تارکین وطن کے لیے کھولیں گے جو مسلح تصادم سے بھاگ کر آئے ہیں جیسے کہ شام، عراق اور افغانستان۔
ایرانی تارکین وطن کی جانب سے احتجاج کا یہ طریقہ گذشتہ کئی روز سے جاری احتجاج کے بعد اپنایا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مظاہرے میں بنگلہ دیش اور مراکش سے آئے ہوئے تارکین وطن بھی شامل ہو گئے کیونکہ یورپی ممالک میں معاشی بدحالی کی وجہ سے یورپی ممالک کا رخ کرنے والے افراد کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے باعث یونان سے مقدونیا میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔







