’پیرس حملوں کو مہاجرین کے مسئلے کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے‘

ہمیں یورپ آنے والے مختلف قسم لوگوں کو ایک ہی درجہ بندی میں شامل نہیں کرنا چاہیے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہمیں یورپ آنے والے مختلف قسم لوگوں کو ایک ہی درجہ بندی میں شامل نہیں کرنا چاہیے

یورپی کمیشن کے سربراہ یان کلاڈ ینکر نے تنبیہ کی ہے کہ پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد یورپی ممالک کو مہاجرین کو قبول نہ کرنے کا ’رد عمل‘ نہیں دینا چاہیے۔

کلاڈ ہنکر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حملہ آوروں میں سے ایک کی لاش کے قریب سے مبینہ طور پر شامی پاسپورٹ ملا ہے جو اکتوبر میں یونانی جزیرے لیروس میں رجسٹر ہونے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

اس پاسپورٹ کی قانونی طور پر تصدیق نہیں ہو پائی ہے اور یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ پیرس حملوں میں ملوث شخص وہی ہے جو یونان کے راستے داخل ہوا تھا۔

ترکی میں ہونے والے جی20 اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں کلاڈ ہنکر نے کہا کہ ’ہمیں یورپ آنے والے مختلف قسم کے لوگوں کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھنا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پیرس حملوں میں ملوث شخص ایک مجرم ہے نہ کہ کوئی مہاجر اور نہ ہی پناہ کا متلاشی۔‘

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما اور روسی صدر ولادی میر پوتن سمیت کئی عالمی رہنما جی 20 اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ گئے ہیں۔

اتوار کو امریکی صدر باراک اوباما اور سعودی شاہ سلمان کے درمیان ملاقات کا امکان بھی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناتوار کو امریکی صدر باراک اوباما اور سعودی شاہ سلمان کے درمیان ملاقات کا امکان بھی ہے

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ ’امریکہ پیرس میں ہونے والے حملوں کے ذمہ داروں کو پکڑنے کے لیے فرانس کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

ترکی کے صدر طیب اردوغان نے کہا ہے کہ انھوں نے امریکی صدر کے ساتھ ایک اتحاد میں رہ کر نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی پر آئندہ کیے جانے والے اقدام کا جائزہ لیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’عالمی رہنماؤں کو شدت پسندی کے خلاف سخت اور مضبوط پیغام دینا چاہیے۔‘

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں زیادہ تر بات پیرس میں ہونے والے حملوں اور شام میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے پر ہو گی۔

اس اجلاس میں شامل زیادہ تر ممالک شدت پسندی کی وجہ سے کسی نہ کسی قسم کا نقصان اٹھا چکے ہیں اور امکان ہے کہ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف فوجی مہم کو بڑھانے پر بھی غور کیا جائے گا۔