یورپی سربراہی اجلاس پر تارکینِ وطن کا معاملہ حاوی

،تصویر کا ذریعہAP
اس برس کے اختتام سے پہلے یورپی یونین کے آخری سربراہی اجلاس سے قبل جرمنی سمیت دیگر کئی ممالک اور ترکی کے درمیان ہزاروں شامی پناہ گزینوں کی آبادکاری جیسے اہم مسئلے پر بات چیت کا امکان ہے۔
اجلاس میں شریک ممالک ترکی کی خیمہ بستیوں سے شامی پناہ گزینوں کی براہ راست دوسرے ممالک میں آبادکاری کی تجاویز پر بات کریں گے۔
اس منصوبہ بندی کے پیچھے سب سے اہم کردار ادا کرنے والی جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل کو دیگر یورپی ممالک کی جانب سے مزاحمت بھی کاسامنا ہے۔
جمعرات کے روز بیلجیئم کے شہر برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں پناہ گزینوں کا مسئلے پر سب سے زیادہ توجہ رہے گی۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان اس امر پر شدید اختلاف بھی پائے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
رواں برس لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے یورپ کی طرف نقل مکانی کی ہے جس کے بعد بعض یورپی ممالک نے اپنی سرحدوں کی نہ صرف نگرانی شروع کردی بلکہ سرحدوں بھی بند کر دی ہیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ برسلز میں تیار کیے جانے والے منصوبے کے نفاذ کے بعد یونان پہنچنے کے لیے لوگ خطرناک سمندری سفر سےگریز کریں گے اور پناہ گزین یورپی یونین کے رکن ممالک کے واجب کوٹے سے زیادہ قابل قبول ہوں گے۔
گذشتہ ماہ ترکی اور یورپی یونین کے مابین ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت انقرہ مالی امداد اور سیاسی مراعات دے کر مہاجرین کو نقل مکانی سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یورپی یونین کے اس اجلاس میں یورپی کمیشن کے ان منصوبوں کا جائزہ لیا جائےگا جس میں یورپی یونین ساحلی محافظوں اور بیرونی سرحدوں کو محفوظ بنانے جیسے دیگر طریقہ کار شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانس کے شہر پیرس پر حملوں میں شامل دو حملہ آوروں کی جانب سے پناہ گزینوں کے راستے کو استعمال کرتے ہوئے فرانس میں داخلے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ بھی اس اجلاس میں توجہ کا مرکز رہے گی۔
کئی پناہ گزین شام، عراق، اور افغانستان میں جاری شدت پسندی سے بچنے کے لیے ان ممالک کو چھوڑ کر شمالی یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پناہ گزینوں اور شدت پسندی کے مسائل کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کے خواہاں یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کہتے ہیں: ’بیرونی سرحدوں کی حفاظت کا مقصد ان لوگوں کو خوفزدہ کرنا نہیں ہے جو ظلم اور جنگ سے بھاگ کر آ رہے ہیں۔‘
اجلاس کے دعوت نامے میں وہ لکھتے ہیں کہ ’یورپ آزادی پر یقین رکھتا ہےاور خطرے کا شکار لوگوں کو ہمیشہ پناہ دے گا۔‘







