پناہ گزینوں کے معاملے میں جرمنی اور ترکی میں تعاون پر اتفاق

دونوں ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے کے باوجود کئی معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندونوں ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے کے باوجود کئی معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں (فائل فوٹو)

جرمنی اور ترکی نے اعادہ کیا ہے کہ دونوں ممالک پناہ گزینوں کا بحران حل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ تعاون کریں گے۔

انقرہ میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ بات چیت کے بعد ترک وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر جرمن چانسلر اور ان کی سوچ میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

اتوار کو جرمن چانسلر کی ترک وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ انگیلا مرکل نے ترکی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ترک شہریوں کے لیے شینگن یورپی ممالک کے ویزے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے جرمنی ترکی کی مدد کرے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے کے باوجود کئی معاملات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں جن میں یہ معاملہ بھی ہے کہ اپنی سرحدوں پر نگرانی میں اضافے کے لیے ترکی کو یورپی یونین جو مالی مدد فراہم کر رہا ہے اس میں اضافہ کیا جائے گا یا نہیں۔

یاد رہے کہ یورپی یونین کے رہنماؤں نے بلیجیئم کے دارالحکومت برسلز میں حالیہ دنوں میں ترکی کے ساتھ مذاکرات میں ترکی کو زیادہ مالی امداد اور ویزوں میں نرمی کا عندیہ دیا تھا، تاہم کہا جا رہا ہے کہ جرمن چانسلر کو اس سلسلے میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ وہ یورپی یونین میں ترکی کی رکنیت کی مخالف ہیں لیکن انھیں پناہ گزینوں کے معاملے میں ترکی کے تعاون کی فوری ضرورت بھی ہے۔

ترکی کا مطالبہ ہے کہ وہ شام سے ترکی پہنچنے والے 20 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے اور یورپی ممالک کو اس کے اس کردار کو زیادہ سراہنا چاہیے اور اس کی امداد میں اضافہ کرنا چاہیے۔

ہنگری نے جمعہ کو سرحد بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب یوروپی رہنما ہنگری کے حمایت یافتہ ایک منصوبے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنہنگری نے جمعہ کو سرحد بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب یوروپی رہنما ہنگری کے حمایت یافتہ ایک منصوبے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے

جرمن چانسلر کے ترکی پہنچنے سے پہلے اتوار کو موصول ہونے والی خبربں میں بتایا گیا تھا کہ ہنگری کی جانب سے کروئیشیا سے متصل سرحد بند کیے جانے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین سلووینیا پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

سنیچر کو ہنگری کی جانب سے سرحد بند کرنے کے بعد سلووینیا کے وزیرِاعظم میرو سیرار نے ان پناہ گزینوں کو سنبھالنے کے معاملے میں فوج کو پولیس کی مدد کرنے کا حکم دیا تھا۔

سنیچر کو کروئیشیا سے 27 سو پناہ گزین سلووینیا میں داخل ہوئے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے زیادہ تعداد میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو سلووینیا میں داخل ہو جائیں گے۔

سلووینیا کے حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد ہزاروں میں پہنچ سکتی ہے۔

سنیچر کو پناہ گزینوں کے مسئلے پر سلووینیا کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد وزیرِ اعظم میرو سیرار نے کہا تھا کہ حکومت نے پولیس کی مدد کے لیے فوج طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزیناں کے مطابق سلووینیا پہنچنے والے پناہ گزینوں کو پولیس نے رجسٹریشن کے بعد آسٹریا کی سرحد کے قریب واقع ایک کیمپ میں پہنچا دیا ہے۔

یورپ میں پناہ چاہنے والوں کے لیے ہنگری ایک اہم پڑاؤ رہا ہے جہاں سے بیشتر پناہ گزیں آ‎سٹریا اور جرمنی کی طرف جاتے رہے ہیں۔

سلووینیا کی وزیرِ داخلہ ویسنا زنیدار نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس وقت تک پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت دیتا رہے گا جب تک اس کی جرمنی اور آسٹریا سے متصل سرحد کھلی ہے۔

ہنگری نے کروئیشیا سے متصل سرحد بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب یورپی رہنما اس منصوبے پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے جس میں یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ یونان پہنچنے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے فوج بھیجنی چاہیے۔

ہنگری اس سے پہلے سربیا سے متصل اپنی سرحد کو پہلے ہی بند کر چکا ہے۔