یونان: 22 تارکینِ وطن ڈوب کر ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی سے کشتیوں کے ذریعے یونان پہنچنے کی کوشش میں رواں ہفتے کم از کم 22 پناہ گزین ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے۔
یونانی حکام کے مطابق ملک کے جزیرے کیلیمنوس کے قریب کے 19 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے، جبکہ 138 کو بچا لیا گیا۔
<link type="page"><caption> تارکینِ وطن کے لیے یورپی یونین کا 17 نکاتی معاہدہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151025_migrant_crisis_eu_deal_hk" platform="highweb"/></link>
حکام کا کہنا ہے کہ تین افراد روڈز جزیرے کے پاس ہلاک ہوئے اور چھ کو بچا لیا گیا۔
دریں اثنا جنوبی سپین میں امدادی کارکن ان 35 تارکینِ وطن کو تلاش کر رہے ہیں جن کی کشتی مراکش سے سپین آتے ہوئے ڈوب گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ 15 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور چار کی لاشیں ملی ہیں۔
اطلات کے مطابق یہ افراد ایک غیر محفوظ چھوٹی کشتی پر سفر کر رہے تھے۔
حالیہ مہینوں میں بڑی تعداد میں تارکینِ وطن ترکی سے کشتیوں کے ذریعے یونان پہنچ رہے ہیں۔
یونانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اکثر غیر محفوظ کشتیوں میں سفر کرتے ہیں جس کے باعث حادثات پیش آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ کے بدھ کو بھی یونانی حکام نے 16 تارکینِ وطن کے ڈوب جانے کی تصدیق کی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اب تک سات لاکھ کے قریب تارکینِ وطن کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جنگ سے متاثر ملک شام سے ہے۔
عام خیال کے برعکس سردیوں کی آمد کے باوجود یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے پناہ گزین کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔







