سلووینیا کی وارننگ: یورپی اتحاد بکھر جائے گا

،تصویر کا ذریعہGetty
سلووینیا کے وزیرِ اعظم میرو سیرار نے متنبہ کیا ہے کہ تارکینِ بحران سے نمٹنے کے لیے اگر ٹھوس اقدام نہ کیے گئے تو یورپین یونین کا شیرازہ ’بکھرنا شروع ہو جائے گا۔‘
ادھر جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ترکی کی مدد کے بغیر تارکینِ وطن کے بحران سے نمٹنا ممکن نہیں ہے۔
یورپی رہنماؤں کے یہ بیانات بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک ہنگامی اجلاس کے دوران سامنے آئے ہیں جس میں مرکزی یورپ اور بلقان ریاستوں کے رہنما پناہ گزینوں کے بحران پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
اس اجلاس میں یورپی یونین کے دس اور تین غیر یورپی ممالک حصہ لے رہے ہیں جبکہ اجلاس سے ترکی کی عدم موجودگی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
اجلاس میں پیش کردہ ایک مسودے میں اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ کوئی ملک پناہ گزینوں کو پہلے سے طے شدہ معاہدے کے بغیر کسی دوسرے ہمسایہ ملک کی جانب روانہ نہیں کرے گا۔
ہنگری کی جانب سے اپنی سرحد بند کر دینے کے بعد حالات کی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث پناہ گزین کروئیشیا اور سلووینیا سے گزر کر شمال کی جانب اپنا سفر جاری رکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سرحدوں کی بندش کی وجہ سے ہزاروں افراد سخت سردی میں کھلے آسمان کے نیچے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
یورپین یونین کے صدر جین کلاڈ جنکر نے کہا ہے کہ ان کشیدہ حالات میں ان ممالک کو پناہ گزینوں کو اپنے ہمسایہ ممالک کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP Getty Images
برسلز میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس مسٹر جنکر نے بلایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک دن اہم ہے‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہو پایا تو ’بہت جلد ہم بلقان کے سرد دریاؤں میں خاندانوں کو بری طرح سے مرتا دیکھیں گے۔‘
اس اجلاس میں آسٹریا، بلغاریہ، کروئیشیا، میسیڈونیا، جرمنی، یونان، رومانیہ، سربیا اور سلووینیا کے رہنما شریک ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ مسٹر جنکر اس اجلاس میں ایک 16 نکاتی پلان پیش کریں گے جس میں یہ عہد بھی شامل ہو گا کہ کوئی ملک پناہ گزینوں کو پہلے سے طے شدہ معاہدے کے بغیر کسی دوسے ملک کی جانب روانہ نہیں کرے گا۔
مسٹر جنکر کا کہنا ہے کہ ’اب مسئلہ یہ ہے کہ پناہ گزینوں کی آمد کی رفتار کو کس طریقے سے سست کیا جائے اور ہم اپنی بیرونی سرحدوں کو کس طرح کنٹرول کریں۔‘
ہنگری نے سربیا اور کروئیشیا کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کرنے کا فیصلہ گذشتہ سنیچر اور اتور کو کیا تھا۔
اس سرحد بندی کے نتیجے میں اس سنیچر تک 58,000 پناہ گزین سلووینیا پہنچے۔ بیشتر افراد بارش اور سردی میں انتظار کر رہے ہیں۔







