’تارکین وطن کے بحران سے یورپی یونین کی ہم آہنگی کو خطرہ‘

ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ یہ ’غیر معمولی وقت‘ ہے اور اس کے لیے ’غیر معمولی اقدامات، غیرمعمولی قربانیاں اور غیرمعمولی یکجہتی کی ضرورت ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ یہ ’غیر معمولی وقت‘ ہے اور اس کے لیے ’غیر معمولی اقدامات، غیرمعمولی قربانیاں اور غیرمعمولی یکجہتی کی ضرورت ہے‘

یورپیئن کونسل کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ تارکین وطن کے بحران کی وجہ سے یورپی یونین کی ہم آہنگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹسک نے یورپیئن پارلیمنٹ کو بتایا کہ یورپی یونین کو ایک دہائی کے دوران سب بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

جبکہ پارلیمان کے صدر مارٹن شلز نے یورپی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک کمیونٹی کے طور پر مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے اپنے ملکی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔

<link type="page"><caption> سلووینیا کی وارننگ: یورپی اتحاد بکھر جائے گا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151025_europe_balkans_migrants_fa.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> تارکینِ وطن کے لیے یورپی یونین کا 17 نکاتی معاہدہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151025_migrant_crisis_eu_deal_hk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’کافروں کے ملک میں رہنے کو ترجیح دوں گا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/10/151026_migrant_crisis_afghan_smuggler_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ اس سال سات لاکھ سے زائد تارکین وطن کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچے ہیں۔

یورپی حکام ہزاروں کی تعداد میں مزید آنے والے تارکین وطن سے نبرد آزما ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ اس دوران یورپی یونین کے سربراہان کے دورمیان تلخ الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ بیشتر تارکین وطن کا تعلق شام اور شورش زدہ ممالک سے ہے۔

پارلیمان کے صدر مارٹن شلز نے یورپی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ملکی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپارلیمان کے صدر مارٹن شلز نے یورپی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ملکی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں

فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں یورپی پالیمان کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ اس بحران سے یورپی یونین میں تبدیلی رونما ہوسکتی ہے اور شینگن زون کے ممالک میں سرحدوں سے آزاد سفر جیسے بنیادی اصول برباد کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ چیلنج یورپ کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔‘

’یہ تبدیلی بہتری کی جانب نہیں ہے۔‘

ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ یہ ’غیر معمولی وقت‘ ہے اور اس کے لیے ’غیر معمولی اقدامات، غیرمعمولی قربانیاں اور غیرمعمولی یکجہتی کی ضرورت ہے۔‘

ڈونلڈ ٹسک کی جانب سے یہ تنبیہہ یورپی سربراہان کی جانب سے برسلز میں تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے متعلق ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔

اقوام متحدہ کےمطابق اس سال سات لاکھ سے زائد تارکین وطن کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کےمطابق اس سال سات لاکھ سے زائد تارکین وطن کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچے ہیں

خیال رہے کہ پیر کو سلووینیا میں پولیس کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں دس ہزار کے قریب تارکین وطن کروئیشیا سے آئے ہیں۔

دوسری جانب رپسپشن سینٹرز بڑھانے اور پولیس کی تعیناتی میں اضافے سے قطع نظر یورپین پارلیمان کی صدر شلز کا کہنا ہے انھوں نے مذاکرات ’انتہائی پریشان کن‘ حالت میں چھوڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’دائیں اور بائیں جانب کی حکومتیں بعض اوقات سمجھتے ہیں کہ قومی مفادات کمیونٹی سے زیادہ اہم ہیں۔ اس سے جو پہلو سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے وہ مہاجرین اور یورپی یونین کی ہم آہنگی ہے۔‘

ادھر یورپی کمیشن کے صدر یاں کلوڈ ینکر نے کہا ہے کہ رکن ریاستوں کے درمیان بات چیت کی حوصلہ افزائی کی ضرورت کے لیے بلائے گئے اجلاس سے ظاہر ہوا ہے کہ یورپی یونین ’اچھی شکل میں نہیں‘ ہے۔