’یورپی یونین نے مدد نہ کی تو سرحد بند کردیں گے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
پناہ گزینوں کے بحران کا شکار سلووینیا نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یورپی یونین نے تارکین وطن کے حوالے سے طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا تو وہ کروئیشیا سے متصل اپنی سرحد پر باڑ لگا دے گا۔
گذشتہ اتوار کو 11 یورپی ریاستوں اور تین غیر یورپی ریاستوں نے بلقان کی ریاستوں میں 50 ہزار لوگوں کی جگہ بنانے کے ساتھ ساتھ استقبالیہ مراکز قائم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔
انھوں نے سلووینیا کی مدد کے لیے چار سو سکیورٹی اہلکار بھی بھیجنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اس معاہدے میں طے شدہ نکات پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے۔
ہنگری کی جانب سے کروئیشیا سے متصل سرحد بند کیے جانے کے بعد کروئیشیا سے دس دنوں میں 85 ہزار پناہ گزین سلووینیا پہنچے ہیں۔
ہنگری کے شمال میں آسٹریا نے بھی پناہ گزینوں پر قابو پانے کے لیے اپنی سرحد پر باڑ لگائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس سال یورپ میں کشتیوں کے ذریعے سات لاکھ تارکین وطن نے نقل مکانی کی ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق جنگ سے تباہ حال شام سے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان میں سے کئی لوگ شمالی یورپ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ راستے میں آنے والے کچھ ممالک یورپ میں ان لوگوں کے داخلے کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے اور ہمسائے مملک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔
منگل کے روز یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے تنبیہ کی کہ تھی کہ یہ بحران ’ یورپی سیاسی منظر نامے پر بنیادی تبدیلیاں‘ پیدا کر سکتا ہے جو ’بہتری کی راہ میں نہیں ہیں۔‘
یورپی یونین کے ارکان ماضی میں بھی امداد کے وعدے پورے کرنے میں سست رہے ہیں۔
بدھ کو یورپی کمیشن کے صدر جین کلاڈ جنکر نے شکایت کی تھی کہ گذشتہ ماہ فرنٹیکس سرحدی ایجینسی کو جن سات سو 75 سرحدی سکیورٹی اہلکار فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ان میں سے ایجینسی کو اس تعداد سے آدھے سے بھی کم اہلکار فراہم کیے گئے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ مالی امداد کے وعدے بھی پورے نہیں کیے گئے ہیں۔







