’شمالی کوریا میں جوہری تجربات کے مقام پر نئی سرنگ تعمیر‘

شمالی کوریا پنجی ری میں سنہ 2006، 2009، اور 2013 میں زیرِ زمین جوہری تجربے کر چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا پنجی ری میں سنہ 2006، 2009، اور 2013 میں زیرِ زمین جوہری تجربے کر چکا ہے

ایک امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ مصنوعی سیارے سے حاصل ہونے والی تازہ تصاویر کے مطابق شمالی کوریا اپنے جوہری تجربات کی جگہ پر ایک نئی سرنگ تعمیر کر رہا ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے امریکہ کوریا انسٹی ٹیوٹ کے شمالی کوریا سے متعلق تھنک ٹینک کے آن لائن بلاگ ’38 نارتھ‘ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں رواں سال اپریل اور نومبر کے درمیان لی گئی تصاویر کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ان تصاویر میں شمالی کوریا کے پینجی ری جوہری علاقے میں نئی جگہوں پر کام ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

البتہ ساتھ ہی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہاں جوہری تجربہ کرنے کی کوئی علامات نظر نہیں آئی ہیں۔

شمالی کوریا پنجی ری میں سنہ 2006، 2009، اور 2013 میں زیرِ زمین جوہری تجربے کر چکا ہے جبکہ عالمی برادری کو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر شدید تحفظات رہے ہیں۔

ستمبر میں شمالی کوریا نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم فراہم کرنے والے یونگ بیون کے ری ایکٹر نے اپنا کام معمول کے مطابق دوبارہ شروع کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنستمبر میں شمالی کوریا نے کہا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم فراہم کرنے والے یونگ بیون کے ری ایکٹر نے اپنا کام معمول کے مطابق دوبارہ شروع کر دیا ہے

تازہ تصاویر میں نظر آنے والی سرنگ ماضی میں کھودی اور تجربات کے لیے استعمال کی جانے والی تینوں سرنگوں سے فاصلے پر، ایک نئی جگہ پر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’جوہری تجربہ کرنے کی تیاری کے کوئی آثار نہیں ہیں تاہم اگر شمالی کوریا مزید دھماکے کرنا چاہے تو نئی سرنگ آنے والے دنوں میں اس کی صلاحیتوں میں اضافے کا کام کرے گی۔‘

سائنس دانوں نے تجارتی بنیادوں پر دستیاب مصنوعی سیارے سے لی جانے والی جن تصاویر سے نتائج اخذ کیے ہیں اُن میں اس علاقے میں چوتھی سرنگ اور اس میں داخلے کی جگہ دیکھی جا سکتی ہے۔ جبکہ اس جگہ رواں سال اکتوبر اور نومبر تک بھی تعمیراتی کام ہونے کے آثار نظر آئے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس جگہ پر تعمیری سرگرمیوں کے بارے میں کوئی بات سامنے آئی ہو۔ رواں سال اکتوبر میں جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے ین ہیپ نے بھی جنوبی کوریا کے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پنجی ری کے مقام پر نئی سرنگ کی کھدائی کا کام جاری ہے۔