موران بونگ، شمالی کوریا کا غائب نہ ہونے والا بینڈ

گذشتہ پیر کو ہوئی ان کا پرفارمنس کے موقع پر کم یانگ شمالی کوریا کے دورے پر آئے کیوبا کے وفد کے ساتھ وہاں موجود تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ پیر کو ہوئی ان کا پرفارمنس کے موقع پر کم یانگ شمالی کوریا کے دورے پر آئے کیوبا کے وفد کے ساتھ وہاں موجود تھے

شمالی کوریا کے مشہور بینڈ موران بونگ نے ان کے بارے میں باتیں کرنے والوں اور ماہرین کو ایک سبق دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے اوجھل ہو جانے کے بارے میں زیادہ فکر مند نہ ہوں۔

گذشتہ دو ماہ سے موران بونگ بینڈ کی قسمت کے بارے میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ تمام خواتین پر مشتمل گروپ کہاں ہے؟ کیا انھیں نکال دیا گیا ہے؟ کیا وہ صرف اپنے لیے ہی مشہور ہوئے تھے؟

اس گروپ کو گذشتہ جولائی سے ٹیلی وژن پر نہیں دیکھا گیا ہے۔رواں ہفتے انھیں ’نکالے جانے‘ یا لوگوں کے ’سٹیٹس تبدیل‘ کرنے کی خبریں ہی سامنے آئی ہیں۔

’کم یانگ اونز کا پسندیدہ شمالی کورئین بینڈ غائب ہو گیا۔‘ گذشتہ ہفتے اس قسم کی ایک سرخی منظر عام پر آئی تھی جس کے بعد ایک اور خبر آئی ’کم کا پسندیدہ خواتین کا بینڈ میوزک کا سامنا کرنے کے لیے غائب ہو گیا۔‘

لیکن ابھی انٹرنیٹ کی سیاہی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ یہ بینڈ پیونگ ینگ میں ایک کانسرٹ کے لیے سٹیج پر آگیا۔

مشہور افراد کے بارے میں افواہوں کی تصدیق کرنا آزاد خیال مغربی ممالک میں بھی مشکل ہے اور شمالی کوریا میں تو یہ اور بھی مشکل ہے اسی لیے کوئی بھی نہیں جانتا کہ آخر موران بونگ بینڈ خاموش کیوں ہوا تھا۔

جو ہم جانتے ہیں وہ یہ کہ گذشتہ جولائی سے موران بونگ بینڈ کی مغربی موسیقی پر پرجوش کارکردگی اور پیونگ ینگ کا پروپیگینڈا جس میں حاضرین کو سنائے جانے والی ساؤنڈ ریکارڈنگ پر گلیوں اور شمالی کوریا کے مضافاتی علاقوں کے مناظر دکھائے گئے۔

جولائی میں ہی شونگ بونگ نامی بینڈ منظر عام پر آیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجولائی میں ہی شونگ بونگ نامی بینڈ منظر عام پر آیا

شمالی کوریا میں اگر کوئی اہم شخصیت لاپتہ ہو جائے تو اس کے بارے میں الگ الگ قسم کی خبریں گردش کرتی ہیں جیسے کہ کیا انھیں پھانسی دے دی گئی ہے؟ انھیں کیسے کم یانگ اون کی حمایت حاصل نہ ہوئی؟ لیکن اس معاملے میں یہ بہت معصومانہ لگتا ہے۔

یہ بات تو واضح ہے کہ اس بینڈ کو شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم یانگ اون کی حمایت حاصل ہے کیونکہ گذشتہ پیر کو ہوئی ان کی پرفارمنس کے موقع پر کم یانگ شمالی کوریا کے دورے پر آئے کیوبا کے وفد کے ساتھ موجود تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق موران بونگ بینڈ نے کیوبا اور شمالی کوریا کے پسندیدہ گانے گائے جس میں سازوں کی مدد سے ’میونگ ینگ از بیسٹ‘ بھی بجایا گیا۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق ’اس پرفارمنس کے بعد پورے تھیٹر میں ’ہراہ‘ کی آوازیں گونجنے لگیں اور کم یانگ اون نے بھی پرفارمرز اور حاضرین کی جانب گرم جوشی سے ہاتھ ہلایا۔‘

موران بونگ بینڈ کی واپسی سے قبل ان کے منظر عام سے غائب ہو جانے کے بارے میں قیاس آرائیوں میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب جولائی میں ہی شونگ بونگ نامی بینڈ منظر عام پر آیا۔

شمالی کوریا کی خبر رساں ایجنسی نے اس نئے آنے والے بینڈ کے بارے میں کہا: ’یہ ایک بہتر انقلابی آرٹ گروپ ہے۔‘ جس کے بعد شمالی کوریا کے ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ اس گروپ کو اسی لیے بنایا گیا ہے کیونکہ موران بونگ بینڈ منتشر ہو گیا ہے۔

ابھی انٹرنیٹ کی سیاہی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ یہ بینڈ پیونگ ینگ میں ایک کانسرٹ کے لیے سٹیج پر آگیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنابھی انٹرنیٹ کی سیاہی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ یہ بینڈ پیونگ ینگ میں ایک کانسرٹ کے لیے سٹیج پر آگیا

اس نئے بینڈ کا سٹائل خاصا مغربی ہے اور ان کے گائے ہوئے گانوں میں زیادہ تر ’مائی وے‘ اور ’تھیم فرام راکی‘ جیسے گانے ہیں جو کہ شمالی کوریا میں گائے جانے والوں گانوں جیسے قطعی نہیں ہیں۔

ان کے کپڑے بھی کافی حد تک مغرب سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنی طرف مائل کرنے والے کپڑے پہنتے ہیں جنھیں بعض اوقات ’کنزرویٹوو سیکسی‘ کہا جاتا ہے۔

پیر کو ہونے والی پرفارمنس میں موران بونگ بینڈ کے بارے میں جو چیز جانی پہچانی نہیں تھی وہ تھے اس کے لوگ۔ بینڈ کے لیڈر پر سب کی توجہ تھی، وائلن بجانے والی سونو ہیانگ ہوئی؟ کیا وہ وائلن بجا رہی تھیں یا غیر حاضر تھیں۔

یونیورسٹی آف لیڈز کے ایڈم کیتھکارٹ کا کہنا ہے کہ ’ شمالی کوریا کے انٹیلیجنس ذرائع نے شمالی کوریا کے آرکیسٹل میوزیشیئن کو پھانسی دیے جانے کے بارے میں (مسلسل غلط) اطلاعات کو معمول بنا لیا ہے۔ تاہم کسی نے بھی وثوق کے ساتھ نہیں کہا کہ حکومت اور عوام کی پسندیدہ سونو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے یا نہیں۔‘

اس سب میں ہر ایک کے لیے ایک سبق ہے وہ یہ کہ’ شمالی کوریا کے اندر جو بھی ہوتا ہے اس کے بارے میں قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔ شمالی کوریا میں بہت بڑی چیزیں ہوتی ہیں خاص طور پر سیاسی قید کے کیمپس میں۔ لیکن ان کے بارے میں آنے والی تمام خبریں درست نہیں ہوتیں۔