غیر قانونی پناہ گزینوں پر بننے والا گانا آن لائن چارٹ پر سرفہرست

،تصویر کا ذریعہ
غیر قانونی پناہ گزینوں کے ساتھ ناروا سلوک پر آسٹریا کے ایک گلوکار کا احتجاجی گیت ’شویجے منٹ‘ یعنی ایک منٹ کی خاموشی آن لائن میوزک فہرست میں سب سے اوپر ہے۔
گلوکار راؤل ہیسپل کا یہ گیت آسٹریا میں آئی ٹیون اور ایمیزون کے ڈاؤن لوڈ چارٹ پر بھی پہلے نمبر پر ہے۔
ہیسپل کا کہنا ہے کہ یہ نغمہ ٹرائسکرچین میں آسٹریا کے اہم پناہ گزین کیمپ کی حالت زار کے خلاف احتجاج ہے جہاں سینکڑوں پناہ گزین کو باہر سونا پڑ رہا ہے۔
انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کیمپ کی صورتحال پر مذمت کرتے ہوئے انھیں ’غیر انسانی‘ قرار دیا تھا۔
گذشتہ ہفتے انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ تقریبا 1500 افراد کھلے آسمان تلے سوتے ہیں۔ کیمپ میں طبی سہولیات کی کمی اور گندگی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
آسٹریا کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ کیمپ کی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے کام کررہے ہیں۔
’ایک منٹ کی خاموشی‘ جو ابھی تک صرف 0.99 یورو کے پیشگی آرڈر پر دستیا ب ہے اب وہ جرمنی اور سوئزرلینڈ میں بھی مقبول ہورہا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راؤل ہیسپل نے کہا وہ پناہ گزینوں کے بارے میں یورپ اور آسٹریا کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کو پلیٹ فارم مہیا کرنا چاہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ ویانا کے قریب ٹرائسکرچین میں آسٹریا کے اہم پناہ گزین کیمپ کی صورتحال ’وحشت ناک‘ ہے۔
گانے سے حاصل ہونے والی رقم مقامی تنظیم ویانا انیشی ایٹیو کو دی جائے گی جو ٹرائسکرچین میں پناہ گزینوں کی امداد کے کاموں میں سرگرم ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ویانا سے بی بی سی کے نمائندے بیتھینی بیل کا کہنا ہے کہ سرکاری حکام کے مطابق ہر ہفتے 1600 کے قریب افراد آسٹریا میں پناہ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔
ان کے خیال میں سال کے آخر تک یہ تعداد 80000 تک پہنچ جائے گی۔
یورپی یونین کی اعدادوشمار کی ایجنسی یوروسٹیٹ کا کہنا ہے کہ 2014 میں آسٹریا میں 28000 سے زائد افراد نے پناہ کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ اس سال کے پہلے تین ماہ میں یہ تعداد 10 ہزار کو عبور کرچکی ہے۔
ایجنسی کے مطابق سنہ 2015 کے آغاز میں پناہ کے لیے درخواست دینے والوں میں زیادہ تر شام ، افغانستان اور کوسووہ کے باشندے شامل ہیں۔







