کشیدگی میں کمی کے لیے شمالی اور جنوبی کوریا میں بات چیت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جنوبی کوریا کے ایوانِ صدر کے مطابق شمالی اور جنوبی کوریا بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان ملاقات سرحدی گاؤں پن منجوم میں ہو رہی ہے۔
جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ ان کی نمائندگی قومی سلامتی کے امور کے مشیر کوانگ جن اور وزارتِ یونی فیکیشن کے وزیر ہونگ یونگ پیِو کر رہے ہیں۔
شمالی کوریا کے اعلیٰ عہدیداروں کے وفد میں ہوانگ پیونگ اور کِم یونگ گون شامل ہیں۔
شمالی کوریا نے سرحد پار سے شمالی کوریا مخالف نشریات بند نہ کرنے پر جنوبی کوریا کو’سخت فوجی کارروائی‘ کی دھمکی دی تھی۔
اس دھمکی سے پہلے جمعرات کو دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے فائرنگ کے تبادلے کے بعد شمالی کوریا نے ’نیم حالت جنگ‘ کا اعلان کر دیا تھا۔
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے لاؤڈ سپیکروں کو تباہ کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی اور اُن پر فائر کھولنے کے لیے اس کی فوج نے جگہ بھی سنبھال لی تھی۔ یہ لاؤڈ سپیکر جنوب کی طرف سے خبرنامے، موسم کی صورت حال اور موسیقی کے پروگرام نشر کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اس کے بعد جنوبی کوریا نے ان سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر تقریباً 4000 ہزار افراد سے علاقے کو خالی کرا لیا ہے اور شمالی کوریا کو ’سخت جوابی کارروائی‘ کی دھمکی دی تھی۔جنوبی کوریا اور امریکہ کے جنگی جہاز کی سرحدی علاقوں میں پروازیں جاری ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں مملک کے درمیان 1950-1953 کے درمیان ہونے والی جنگ امن معاہدے کے بجائے عارضی صلح نامے پہ ختم ہوئی تھی جس کے بعد سے شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی اعتبار سے حالت جنگ میں ہیں۔
11برس قبل 2004 میں شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحدوں پر ایک دوسرے کے خلاف لاؤڈ سپیکر کا استعمال ختم کرنے کا معاہدہ ہوا تھا۔
جنوبی کوریا کے اخبار کوریا ٹائمز کے مطابق یہ نشریات نفسیاتی جنگ کا حصہ تھیں جن کا مقصد شمالی کوریا کی سرحدوں پر موجود فوجیوں اور وہاں کے رہائشیوں تک باہر کی دنیا کی خبریں پہنچانا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
رواں سال 10 اگست کو جنوبی کوریا نے ان نشریات کا آغاز ایک بار پھر کر دیا تھا۔ بظاہرجنوبی کوریا نے یہ نشریات، غیر فوجی علاقے میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں اپنے دو فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد ردعمل کے طور پر شروع کی تھیں۔ اس واقعے کے لیے جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو موردِالزام ٹھہرایا تھا۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ دنوں بعد شمالی کوریا نے بھی جنوبی کوریا مخالف پروپیگنڈا نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا تھا۔تاہم کچھ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے لاؤڈ سپیکروں کی آواز کا معیار اتنا خراب ہے کہ ان کی بات کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جنوب کی جانب سے اس سے پہلے 2010 میں بھی نشریات دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس وقت اگرچہ لاؤڈ سپیکر بھی نصب کر دیے گئے تھے لیکن ان کو استعمال نہیں کیا گیا تھا، اُس کی جگہ جنوبی کوریا نے شمالی کوریا میں ایف ایم نشریات کا استعمال کیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ پہلا موقع نہیں کہ شمالی کوریا کی جانب سے شدید بیان بازی کی گئی ہو۔ ماضی میں اکثر ایسا ہوتا رہا ہے۔







