سرحدی جھڑپ کے بعد جنوبی کوریا نے علاقہ خالی کرا لیا

،تصویر کا ذریعہAFP
اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساتھ سرحدی جھڑپ کے بعد مغربی سرحد پر رہنے والوں کو کہا ہے کہ وہ وہاں سے علاقہ خالی کر کے چلے جائیں۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جمعرات کو شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے فوجی یونٹ پر ایک شیل پھینکا تھا جس کے جواب میں جنوب نے بھی توپ خانے سے بمباری کی۔
جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل ایک ہنگامی اجلاس بلا رہی ہے۔
مغربی سرحد دونوں ممالک کے درمیان ایک نقطہ اشتعال یعنی فلیش پوائنٹ رہا ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق جنوبی کوریا نے مقامی وقت کے مطابق تین بجکر باون منٹ پر سیول کے شمالی مغربی شہر ژیون چیون پر ایک شیل پھینکا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اس کا نشانہ ایک لاؤڈ سپیکر ہو سکتا تھا جس سے پیونگ یانگ مخالف پیغامات نشر کیے جا رہے تھے۔
بیان کے مطابق اس کے بعد جنوب نے جہاں سے راکٹ فائر کیا تھا اس جانب 155 ایم ایم کے درجنوں راؤنڈ چلائے۔
اس کے بعد دوسری جانب سے کسی کے زخمی ہونے یا کوئی نقصان ہونے کی کوئی اطلاع نہیں آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1950-1953 کی جنگ کے بعد دونوں ممالک تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں کیونکہ وہ جنگ امن کے معاہدے پر نہیں بلکہ عارضی صلاح نامے پر ختم ہوئی تھی۔
حالیہ برسوں میں دونوں طرف سے کئی مرتبہ ایک دوسرے پر فائرنگ کی گئی ہے۔
ایک مقامی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ژیون چیون کے تقریباً 80 فیصد رہائشی علاقہ چھوڑ چکے ہیں جبکہ وہاں رہنے والے دیگر رہائشیوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ محفوظ پناہ گاہیں ڈھونڈ لیں۔
حالیہ واقع شمال اور جنوب کے درمیان سخت تناؤ کے وقت پیش آیا ہے۔
جنوب شمال پر الزام لگاتا ہے کہ اس ماہ کے آغاز میں پھٹنے والی بارودی سرنگ اس نے لگائی تھی جس میں جنوب کے دو فوجی زخمی ہوئے تھے۔
اس کے بعد سے دونوں فریق لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا نشر کر رہے ہیں۔







