شمالی کوریا کا ’آبدوز کے ذریعے میزائل لانچ‘ کرنے کا دعویٰ

آزاد ذرائع نے شمالی کوریا کے حالیہ تجربے کی منظوری نہیں دی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآزاد ذرائع نے شمالی کوریا کے حالیہ تجربے کی منظوری نہیں دی

شمالی کوریا نے آبدوز کے ذریعے میزائل لانچ کرنے کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور اگر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو اسے سے شمالی کوریا کی عسکری صلایت میں اضافہ ہو گا۔

ابھی تک آزاد ذرائع نے شمالی کوریا کے اس تجربے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق آبدوز کے ذریعے میزائل فائر کرنے کا تجربہ ملک کے مشرقی ساحلی شہر سنپو میں کیا گیا۔

رواں سال کے آغاز پر اسی علاقے سے سیٹلائٹ کے ذریعے چند تصاویر جاری کی گئی تھیں جن میں مسلح آبدوز کو دکھایا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے سپریم کمانڈر کم جانگ ان نے کہا ہے کہ اب ان کے ملک کے پاس دنیا میں اعلیٰ صلاحیت کا حامل ہتھیار ہے۔ جس کے ذریعے وہ ان کے ملک کی جانب بڑھنے والی افواج کو سمندر سے بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا چھوٹے جوہری ہتھیار بنا کر اپنے میزائلز میں فٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنیہ بھی کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا چھوٹے جوہری ہتھیار بنا کر اپنے میزائلز میں فٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے

خیال رہے کہ اس قسم کا تجربہ کرنا اقوامِ متحدہ کی ان پابندیوں کی خلاف ورزی ہے جن کے تحت شمالی کوریا بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا تجربہ نہیں کر سکتا۔

اب تک شمالی کوریا کے پاس موجود میزائل زمین سے زمین پر مار کرنے کی صلاحیت کے حامل تھے جن سے وہ ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنا سکتا تھا۔

اس خیال کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے کہ شمالی کوریا چھوٹے جوہری ہتھیار بنا کر انھیں میزائلوں میں نصب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا پر کم جونگ ان کی ایسی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں جن میں وہ پانی میں سے نکلتے ہوئے میزائل کو دیکھ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ شمالی کوریا کے پاس پہلے ہی جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت موجود ہے تاہم آبدوز سے مار کرنے والے میزائل کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ ابھی تک آزاد ذرائع نے شمالی کوریا کے اس تجربے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مقامی میڈیا پر میزائل تو دکھایا جا رہا ہے تاہم تاریخ اور جگہ کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔