وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون پر حملے کر سکتے ہیں: شمالی کوریا

شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ سونی پکچرز پر سائبر حملوں میں اس کا ہاتھ نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہSony Pictures

،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ سونی پکچرز پر سائبر حملوں میں اس کا ہاتھ نہیں ہے

سونی پکچرز پر سائبر حملے کے بعد امریکہ اور شمالی کے درمیان ہونے والی الفاظ کی جنگ میں اب تیزی آنے کے بعد شمالی کوریا نے امریکہ پر غیر معینہ حملوں کی دھمکی دی ہے۔

شمالی کوریا نے ایک تند بیان میں کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور پورے امریکہ پر حملے کر سکتا ہے۔

شمالی کوریا نے امریکہ کے ان دعووں کی تردید کی ہے کہ سائبر حملوں کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔ خیال ہے کہ ان حملوں کا تعلق اس فلم سے تھا جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی افسانوی ہلاکت دکھائی گئی ہے۔

شمالی کوریا کی امریکہ کے خلاف دھمکیوں کی ایک لمبی تاریخ ہے۔

حالیہ بیان امریکہ کے اس بیان کے کچھ دن بعد آیا ہے جس میں اس نے سونی پکچرز پر سائبر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام باقاعدہ طور پر شمالی کوریا پر لگایا تھا۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی طرف سے نشر کی جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فوج اور ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کے عوام امریکہ کے ساتھ ہر طرح کی جنگ، بشمول سائبر جنگ کے لیے تیار ہیں۔‘

کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کی طرف سے نشر کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’ہماری سب سے بڑی لڑائی وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور تمام امریکہ کے خلاف ہو گی جو کہ دہشت گردی کا منبع ہے، اور یہ مزاحمت اس سے کہیں زیادہ ہو گی جس کا اعلان اوباما نے کیا ہے۔‘

اس میں صدر اوباما کے بارے میں کہا گیا کہ انھوں نے لاپروائی میں سونی پر حملوں کا الزام شمالی کوریا پر لگایا ہے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کے خیال میں سونی پر حملہ کرنے والے ہیکروں نے درست قدم اٹھایا ہے اگرچہ اسے نہیں معلوم کہ وہ کون ہیں۔

بی بی سی کے کوریا کے نامہ نگار سٹیون ایونز کے مطابق شمالی کوریا اکثر جنوبی کوریا اور امریکہ کے خلاف شدید بیان بازی کرتا رہتا ہے، سو اس حوالے سے بیان بازی میں کوئی شدت نہیں آئی اور یہ صرف ملک کے اندر عوام اور باہر کے لوگوں کے لیے ہے۔

اس بیان کو اس لیے ضرور اہمیت دی جا سکتی ہے کہ یہ شمالی کوریا کے سب سے زیادہ طاقتور ادارے نیشنل ڈیفنس کونسل کی جانب سے آیا ہے جس کی صدارت کم جون ان خود کرتے ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بیان کے دو اہم پہلو ہیں۔ ایک کہ ’ہم نے یہ نہیں کیا‘ اور دوسرا کہ ’جس نے بھی کیا وہ ٹھیک کیا۔‘