سونی پر ہیکروں کے حملے کا موثر جواب دیا جائے گا: اوباما

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی صدر براک اوباما نے شمالی کوریا کی جانب سے سونی پکچرز کی ہیکنگ کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سونی پکچرز نے اپنی فلم کا اجرا نہ کر کے ’غلطی کا ارتکاب‘ کیا ہے جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جنگ اُن کے قتل کو مزاحیہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔
جمعے کو امریکی حکام نے اس ہیکنگ کو شمالی کوریا کے ہیکرز سے منسوب کیا جس کے نتیجے میں سٹوڈیو کا اپم مواد پبلک کے سامنے آ گیا۔
سونی پکچرز نے فلم کے اجرا کو مسلسل دھکیوں کے نتیجے میں منسوخ کر دی تھا۔
صدر اوباما نے کہا کہ ’ہم اس کا جواب دیں گے اور اس کا جواب اسی حساب سے دیں گے ایک اپنی پسند کے وقت اور جگہ اور طریقۂ کار کے تحت۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسا معاشرہ نہیں چاہتے جہاں کوئی آمر کہیں بیٹھے ہمارے امریکہ پر سنسر شپ نافذ کر دے۔‘
صدر اوباما نے کہا کہ عوامی اور ذاتی سائبر نظام کا تحفظ ہیکنگ کے حملوں سے بہت ضروری ہے جس کے بہت زیادہ معاشی اور سماجی اثرات ہو سکتے ہیں۔
صدر اوباما نے کہا کہ ان کے خیال میں سونی پکچرز نے فلم کے اجرا کو روک کر غلطی کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی اپنی زندگی گزرانے کے طور طریقے دشہت گردی کے حملوں کے پیشِ نظر بدل نہیں سکتے ہم اس طرح سے نہیں ہیں اور یہ ویسا نہیں ہے جس طرح امریکہ ہے۔‘
اس سے قبل جمعے کو امریکہ نے فلم ساز کمپنی سونی پکچرز پر سائبر حملے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
سونی کو سائبر حملے اور ہیکرز کی دھمکیوں کے بعد شمالی کوریا کے صدر کے قتل کے بارے میں بنائی گئی مزاحیہ فلم ’دی انٹرویو‘ ریلیز کا ارادہ ترک کرنا پڑا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ امریکہ اسے ایک سنگین مسئلہ سمجھتا ہے۔
انھوں نے اس حملے کے لیے شمالی کوریا کو براہِ راست ذمہ دار تو نہیں ٹھہرایا تاہم کہا کہ یہ سائبر حملہ کسی ’ماہر‘ کا کام ہے۔
امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اس معاملے کی تحقیق کر رہا ہے اور سائبر حملے اور شمالی کوریا کے درمیان ربط ان تحقیقات کا اہم موضوع ہے۔
ادھر سونی کی جانب سے فلم ریلیز نہ کرنے کے اعلان پر سخت نکتہ چینی کی گئی ہے اور ہالی وڈ میں کئی لوگوں نے اسے اظہار کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ ہیکروں نے سونی کے کمپیوٹرز سے حساس معلومات چرائی تھیں اور پھر لوگوں کو فلم نہ دیکھنے کی تنبیہ کی تھی۔
انھوں نے 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر فلم دکھائی گئی تو ’دنیا ڈر جائے گی۔‘
ان دھمکیوں کے بعد امریکہ میں متعدد سینیماؤں نے فلم دکھانے سے معذرت کر لی تھی۔
’دی انٹرویو‘ میں جیمز فرانکو اور سیتھ رجین نے دو صحافیوں کا کردار نبھایا ہے جنہیں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملنے کا موقع ملتا ہے اور سی آئی اے ان دونوں کو کم کو مارنے کو کہتی ہے۔
یہ فلم اس سال کرسمس پر ریلیز ہونی تھی.
اس ماہ کے آغاز میں شمالی کوریا نے سونی پر سائبر حملے میں ملوث ہونے سے انکار تو کیا تھا لیکن ساتھ ہی اس حملے کو ’صحیح قدم‘ قرار دیا تھا۔
شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی نے ملک کے سپریم فوجی ادارے کے حوالے سے کہا تھا کہ پيانگ يانگ کے حملے کے پیچھے ہونے کی بات ’مکمل طور پر افواہ‘ ہے۔
حالانکہ اس میں امریکہ کو خبردار کیا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے ’پوری دنیا میں بڑی تعداد میں حامی اور ہمدرد‘ ہیں اور ہو سکتا ہے کہ انھوں نے یہ حملہ کیا ہو۔







