مزاحیہ فلم ’دی انٹرویو‘ کا پریمیئر منسوخ

،تصویر کا ذریعہSony Pictures
شمالی کوریا کے صدر کے قتل کے بارے میں بنائی گئی مزاحیہ فلم ’دی انٹرویو‘ کا نیویارک میں ہونے والا پریمیئر ہیکروں کی طرف سے دھمکیوں کے باعث منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ہیکروں نے سونی سٹوڈیو کی فلمیں دکھانے والے سینیما گھروں پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
ان ہیکروں کا تعلق اسی گروہ سے جس نے حال ہی میں سونی سے چوری کی گئی ای میلز اور ڈیٹا انٹرنیٹ پر جاری کر دیا تھا۔
خود کو امن کا رکھوالا کہنے والے ہیکروں کے اس گروہ نے ایک حالیہ پیغام میں 9/11 سے بھی بڑے حملوں کی دھمکی دی تھی۔
دوسری جانب امریکہ کی داخلی سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے کا کہناہے کہ سینیما گھروں کے خلاف کسی ممکنہ دہشت گردی کی کارروائی کی کوئی قابلِ اعتبار اطلاعات نہیں ہیں۔ مگر وہ اس گروہ کی جانب سے بھیجے گۓ پیغامات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔
نیویارک کے لینڈ مارک سینیما، جس میں یہ پریمیئر ہونا تھا، کے ترجمان نے کوئی وجہ بتائے بغیر اس کی منسوخی کی تصدیق کی ہے۔
اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ کارمک سینیما نے، جس کی ملک بھر میں 278 شاخیں ہیں، اس فلم کی نمائش منسوخ کر دی ہے۔
سونی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سینیما گھر اس فلم کی نمائش نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لینڈ مارک اور کارمک کے بر عکس لوک سینیما نے اس فلم کو دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لوک کے سی ای او ٹام سیٹفنسن کا کہنا ہے کہ سنسرشپ ایک بری چیز ہے سونی کو فلم بنانے کا حق ہے اور ہمیں اس کی نمائش کا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ فلم میں کام کرنے والے اداکار جیمز فرانکو اور سیٹھ روگن نے حالیہ دنوں میں مختلف ذرائع ابلاغ کے ساتھ اپنے انٹرویو بھی منسوخ کیے ہیں۔
ہیکروں نے حالیہ دنوں میں سونی کی کمپنی کا نیا ڈیٹا ریلیز کیا ہے اور اسے کرسمس کا تحفہ قرار دیا ہے۔
بڑی تعداد میں کمپنی کی ای میلز پہلے ہی انٹرنیٹ پر جاری کی جا چکی ہیں، جن میں سے کچھ ای میلز میں کمپنی کے ملازمین کی جانب سے ہالی وڈ کے کچھ بڑے ستاروں جن میں اینجلینا جولی اور لیونارڈو ڈی کیپریو شامل ہیں کی برائیاں کی گئی ہیں۔
سونی نے ان ای میلز کی اشاعت کو روکنے کے لیے کچھ امریکی ذرائع ابلاغ سے رابطہ کیا تھا مگر اس سلسلے میں اسے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
دو ملازمین کی جانب سے مناسب ڈیٹا سکیورٹی فراہم نہ کرنے پر کمپنی پر ہرجانہ دائر کرنے سے سونی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
دوسری جانب شمالی کوریا نے ہیکنگ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے مگر ساتھ ہی اسے ایک صالح عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ اس کے حامی اور ہمدردوں نے کیا ہو۔







