سونی پکچرز پر سائبر حملے کی مشترکہ تحقیقات کی پیشکش

’دی انٹرویو‘ میں جیمز فرانکو اور سیتھ رجین نے دو صحافیوں کا کردار نبھایا ہے

،تصویر کا ذریعہu

،تصویر کا کیپشن’دی انٹرویو‘ میں جیمز فرانکو اور سیتھ رجین نے دو صحافیوں کا کردار نبھایا ہے

شمالی کوریانے امریکہ کے ساتھ مل کر فلمساز سونی پکچرز پر سائبر حملے کی تحقیقات کی پیشکش کرتے ہوئے اس حملے میں ملوث ہونے کے امریکی الزامات کی سختی سے مذمت کی ہے۔

شمالی کوریا کے وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے اور ان الزامات کو تحقیقات کے ذریعے غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔

’جب امریکہ بے بنیاد الزامات کو پھیلا رہا ہے اور ہم پر بہتان لگا رہا تو اس صورتحال میں ہم اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی تجویز دیتے ہیں۔ ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ اس واقعے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

اس سے پہلے فلمساز سونی پکچرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلم دی انٹرویو کو’ایک مختلف متبادل پلیٹ فارم پر جاری کریں گے۔‘

جمعے کو امریکی حکام نے شمالی کوریا کو اس ہیکنگ کے حملے کے پیچھے کار فرما قرار دیا جس کے نتیجے میں سونی پکچرز سے اہم معلومات ہیک کر کے افشا کر دی گئی تھیں۔

سونی نے اس اعلان کے بعد ملنے والی دھمکیوں کے نتیجے میں فلم کے کرسمس پر اجرا کو منسوخ کر دیا تھا جب کئی سینماؤں نے اس کی نمائش سے معذوری ظاہر کی تھی۔

سونی پکچرز کے سربراہ مائیکل لینٹن نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے فلم کے اجرا کو روک کر سونی پچکرز نے کوئی غلطی نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ صدر اوباما، پریس اور عوام فلم کے اجرا کو روکنے کے بارے میں غلطی پر ہیں کیونکہ انھوں نے فیصلہ اُس وقت کیا جب بڑے سینما گھروں نے اس فلم کی نمائش سے انکار کر دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم دباؤ میں نہیں آئے نہ ہی ہم نے ہمت ہاری ہم نے احتیاط سے کام لیا مگر پیچھے نہیں ہٹے۔‘

سونی نے جمعے کو اعلان کیا کہ وہ ’متبادل پلیٹ فارم کے بارے میں تحقیق کر رہی ہے جہاں فلم کی نمائش کی جا سکتی ہے۔‘

فلم کے دونوں مرکزی کرداروں کو شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملنے کا موقع ملتا ہے اور سی آئی اے ان دونوں کو کم کو مارنے کو کہتی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفلم کے دونوں مرکزی کرداروں کو شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملنے کا موقع ملتا ہے اور سی آئی اے ان دونوں کو کم کو مارنے کو کہتی ہے

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں اب بھی امید ہے کہ جو لوگ اس فلم کو دیکھنا چاہتے ہیں انہیں اس کا موقع ملے گا۔

جمعے کو امریکی حکام نے اس ہیکنگ کو شمالی کوریا کے ہیکرز سے منسوب کیا جس کے نتیجے میں سٹوڈیو کا اہم مواد پبلک کے سامنے آ گیا۔

سونی پکچرز نے فلم کے اجرا کو مسلسل دھکیوں کے نتیجے میں منسوخ کر دی تھا۔

صدر اوباما نے اس پر تبصرہ کرتے ہویے کہا تھا کہ کہ ’ہم اس کا جواب دیں گے اور اس کا جواب اسی حساب سے دیں گے ایک اپنی پسند کے وقت اور جگہ اور طریقۂ کار کے تحت۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسا معاشرہ نہیں چاہتے جہاں کوئی آمر کہیں بیٹھے ہمارے امریکہ پر سنسر شپ نافذ کر دے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ عوامی اور ذاتی سائبر نظام کا تحفظ ہیکنگ کے حملوں سے بہت ضروری ہے جس کے بہت زیادہ معاشی اور سماجی اثرات ہو سکتے ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ ان کے خیال میں سونی پکچرز نے فلم کے اجرا کو روک کر غلطی کی ہے۔

سونی پکچرز کے سربراہ مائیکل لینٹن نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے فلم کے اجرا کو روک کر سونی پچکرز نے کوئی غلطی نہیں کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسونی پکچرز کے سربراہ مائیکل لینٹن نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے فلم کے اجرا کو روک کر سونی پچکرز نے کوئی غلطی نہیں کی

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی اپنی زندگی گزرانے کے طور طریقے دشہت گردی کے حملوں کے پیشِ نظر بدل نہیں سکتے ہم اس طرح سے نہیں ہیں اور یہ ویسا نہیں ہے جس طرح امریکہ ہے۔‘

اس سے قبل جمعے کو امریکہ نے فلم ساز کمپنی سونی پکچرز پر سائبر حملے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

سونی کو سائبر حملے اور ہیکرز کی دھمکیوں کے بعد شمالی کوریا کے صدر کے قتل کے بارے میں بنائی گئی مزاحیہ فلم ’دی انٹرویو‘ ریلیز کا ارادہ ترک کرنا پڑا تھا۔

ہیکروں نے 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر فلم دکھائی گئی تو ’دنیا ڈر جائے گی۔‘

ان دھمکیوں کے بعد امریکہ میں متعدد سینیماؤں نے فلم دکھانے سے معذرت کر لی تھی۔

’دی انٹرویو‘ میں جیمز فرانکو اور سیتھ رجین نے دو صحافیوں کا کردار نبھایا ہے جنہیں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملنے کا موقع ملتا ہے اور سی آئی اے ان دونوں کو کم کو مارنے کو کہتی ہے۔