شمالی کوریا کا فوج کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے رہنما کِم جونگ ان نے جنوبی کوریا کے ساتھ جمعرات کو ہونے والی سرحدی جھڑپ کے بعد اپنی فوج کو اگلے محاذ پر جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کا کہنا ہے کہ کِم جونگ ان نے جمعرات کی رات گئے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد ’نیم حالتِ جنگ‘ کا اعلان کیا۔
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو پیانگ یانگ مخالف پیغامات پر مبنی نشریات بند نہ کرنے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ پہلا موقع نہیں کہ شمالی کوریا کی جانب سے شدید بیان بازی کی گئی ہو۔ ماضی میں اکثر ایسا ہوتا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جنوبی کوریا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو ایونز کہتے ہیں کہ جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو جارحانہ لہجہ اپنایا جاتا ہے تاہم اس بار نہ صرف لہجوں میں زیادہ تلخی ہے بلکہ گولہ باری بھی کی گئی ہے۔
کے سی این اے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کِم جونگ ان نے اپنی افواج کو جمعے کی شام مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے تک ’کسی بھی جنگی کارروائی کے لیے ہر وقت تیار رہنے‘ کا حکم دیا ہے۔ یہ احکامات سینٹرل ملٹری کمیشن کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل شمالی کوریا جنوبی کوریا کو دھمکی دے چکا ہے کہ اگر’48 گھنٹوں کے اندر‘ سرحد پار سے نشر ہونے والا پروپیگنڈا بند اور نشریاتی سہولیات ختم نہ کی گئیں تو وہ سخت فوجی کارروائی کا راستہ اپنائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی یونیفیکیشن کی وزارت نے ایک الگ خط میں کہا ہے کہ پیانگ یانگ مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے تاہم وہ جنوبی کوریا کی جانب سے کیے جانے والی ان نشریات کو اعلان جنگ سمجھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ دونوں مملک کے درمیان کشیدگی میں اُس وقت مزید اضافہ ہوا جب شمالی کوریا نے جمعرات کو سرحد پار بمباری کی۔
اطلاعات کے بعد شمالی کوریا نے یہ بمباری 11 سال بعد شروع ہونے والی پیانگ یانگ مخالف نشریات دوبارہ شروع ہونے کی وجہ سے کی تھی۔
دونوں مملک کے درمیان سنہ 1953-1950 کے درمیان ہونے والی جنگ امن معاہدے کے بجائے عارضی صلح نامے پہ ختم ہوئی تھی جس کے بعد سے شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی اعتبار سے حالت جنگ میں ہیں۔
حالیہ برسوں میں دونوں جانب سے کئی مرتبہ ایک دوسرے پر فائرنگ کی گئی ہے۔







