روسی جاسوس کا قتل، تاریخ دوبارہ تحریر کرنے کی کوشش

،تصویر کا ذریعہNTV
یہ لندن کے ایک دفتر کا منظر ہے۔ روسی حکمراں طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک روسی جلاوطن ایک شخص کو زہریلی شراب کا گلاس پلا دیتا ہے۔ باہر نکل کر شراب پینے والے شخص کی طبیعت غیر ہو جاتی ہے اور وہ ایک گٹر میں قے کر دیتا ہے۔
اس کے بعد وہ شخص ایک ہوٹل کے ریستوراں میں اپنے ایک ساتھی اور سابق کے جی بی افسر سے ملتا ہے۔ بیمار شخص چائے منگواتا ہے، جبکہ اس کا ملاقاتی چائے دانی سے کچھ ہی فاصلے پر بیٹھا صاف دکھائی دے رہا ہے۔ اس نے چائے دانی کو چھوا تک نہیں ہے۔
یہ تفصیل روسی خفیہ ایجنسی کے مفرور افسر الیگزینڈر لتوینینکو کی زہر سے موت واقع ہونے کے متعلق حال ہی میں روسی چینل این ٹی وی پر دکھائے جانے والے آٹھ اقساط پر مشتمل سنسنی خیز سیاسی سیریل نیپوسودنیے (اچھوت) میں دی گئی ہے۔
غدار
الیگزینڈر لِتوینینکو روسی خفیہ ایجنسی کے سابق ایجنٹ تھے جو روسی حکومت کے منحرف ہو گئے تھے۔ انھیں 2006 میں تابکار مادہ پولونیئم دے کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ایک طویل انتظار کے بعد ان کی موت کی تفتیشی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جو اس سال کے آخر میں برطانیہ کی وزیرداخلہ ٹریزا مے کو بھیجی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
’اچھوت‘ کا مرکزی کردار آندرے ورونوف ہے جو نقاد کسینیا لارینا کے الفاظ میں ایک ’عظیم سورما اور ہیرو ہے۔‘ ان کے مدِمقابل الیگزینڈر لتوینینکو ہے جسے لارینا نے ’غدار‘ سے تعبیر کیا ہے۔
ڈرامے میں کرداروں کے خاندانی نام تبدیل کر دیے گئے ہیں لیکن وولکوف سے مراد لتوینینکو ہی ہے جبکہ لتوینینکو کو قتل کرنے والا وورونوف برطانیہ میں مطلوبہ ملزم آندرے لوگوووئی ہے۔
یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ڈرامے میں لوگوووئی کی اس قدر خوشامدانہ تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ اب رکنِ پارلیمان ہیں اور ٹی وی پر ایک پروگرام بھی کرتے ہیں۔
ڈرامے میں وولکوف کو زہر دینے والا شخص بورس بیروزوسکی ہے جو ایک زمانے میں روسی محل کی ایک اہم شخصیت تھا لیکن اب برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے۔ سنہ 2013 میں اپنی موت سے چند سال قبل وہ روسی ٹیلی ویژن کی انتہائی طاقتور شخصیت تھا اور الیگزنڈر لیتوینینکو کا دوست تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیریزوسکی کو مردہ حالت میں پایا گیا۔ ان کی گردن کے گرد رسی لپٹی ہوئی تھی اور جیوری ان کی موت کا تعین کرنے میں ناکام رہی تھی۔ ڈرامے میں ان کا کردار بظاہر مزاحیہ ہے، جو ساتھ ہی ایک شیطانی خیالات رکھنے والا ذہین شخص بھی ہے۔
وہ ایک مقام پر یہ جملہ ادا کرتاہے: ’اگر ہم ٹیلی ویژن پر غلبہ حاصل کرلیں تو اس ملک پر ہمارا قبضہ ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
نقاد ایرینا پیٹروسکایا کا کہنا ہے کہ یہ فقرہ دراصل ولادی میر پوتن کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن پوتن کو سوائے دفاتر میں آویزاں تصاویر کے اس ڈرامےمیں کہیں بھی نہیں دکھایا گیا۔
ڈرامے کے دیگر کردار
بیروزوسکی کے پیچھے برطانوی خفیہ ایجنسی کا ایک شخص مارٹن سٹیونسن سائے کی طرح لگا ہوا ہے جس کو روسی زبان پر عبور حاصل ہے، اور جو ایک شاطر جاسوس کا روپ دھارے ہوئے ہے۔
ڈرامے کے اختتام کے قریب بیروزوسکی سٹیونسن کو برطانیہ کے لیے اپنے کام کی رپورٹ دیتا ہے، جس میں تصویروں کی ایک کتاب شامل ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دہشت گرد حملوں کے کیا نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
لبرل صحافی آندرے آرخانگیلسکی کا کہنا ہے کہ ’اچھوت‘ میں ’سیکرٹ سروس کی کارروائیوں‘ کا مخصوص طرز عمل دکھایا گیا ہے، جس کامقصد ناظرین کو لیتوینینکو کے قتل سے متعلق قرینِ قیاس دلائل دے کر متاثر کرنا ہے۔
لیکن یہ ڈراما ناظرین کو قائل نہیں کر پاتا۔

مثال کے طور پر اس ڈرامے میں اس تابکار مادے پولونیئم کا ذکر نہیں ہے، جسے لیتوینینکو اس وقت دیا گیا تھا جب وہ لوگوووئی اور ایک دوسرے سابق کے جی بی رکن دمتری کووتون کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔
مضحکہ خیز پیروڈی
’اچھوت‘ حالیہ دنوں میں لیتوینینکو کی موت کی کہانی کو ازسرنو تحریر کرنے کی پہلی کوشش نہیں ہے۔
اس سال ستمبر میں لندن میں روسی سفارت خانے نے ایک دستاویزی طرز کی فلم دکھائی تھی جس کے ہدایت کار الیگزینڈر کوروبکو تھے اور جس میں لوگوووئی کو معصوم ٹھہرایا گیا تھا۔
اداکاروں کی مضبوط ٹیم اور پرائم ٹائم میں جگہ پانے کے باوجود ’اچھوت‘ ناظرین میں کوئی خاص مقبولیت حاصل نہ کر سکا اور ناقدین کی تنقید کا نشانہ بنا۔
حتیٰ کہ روسی حکومت کے حامی اخبار کومسومولسکایا پراودا کے ناقد بھی اس سیریئل سے متاثر نہ ہو سکے۔ انھوں نے اسے ایک ’مضحکہ خیز پیروڈی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کو دیکھتے ہوئے آپ کو ہنسی نہ آئے، یہ ناممکن ہے۔







