امریکہ نے اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ کو رہا کر دیا

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والے امریکی بحریہ کے سابق تجزیہ کار کو رہا کردیا گیا۔انھیں سنہ 1987 میں امریکہ میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
61 سالہ سابق اہلکار کو جمعرات کی صبح رہا کیا گیا۔
جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری سب سے طویل اور متنازع مسئلے کا خاتمہ ہوگیا۔ قوانین کی وجہ سے امریکہ میں انھیں پانچ سال تک امریکہ میں قیام کرنا ہوگا۔
اسرائیل نے اِن برسوں کے دوران متعدد بار امریکہ سے جوناتھن پولارڈ کے لیے رحم کی درخواست کی تھی جس کو مسترد کردیا گیا تھا۔
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے عوام اُن کی رہائی کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
نتن یاہو نے کہا کہ ’جس نے بھی کئی سالوں تک امریکی صدور کے ساتھ جوناتھن پولارڈ کے مقدمے کا معاملہ اُٹھایا ہے میں آج اِس دن کے لیے اُنھیں مبارکباد دیتا ہوں۔‘
نتن یاہو کے ترجمان نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’30 مشکل سالوں کے بعد جوناتھن پولارڈ اپنے خاندان سے مل رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولارڈ نے رقم کے عوض ایک سال تک اسرائیل کو خفیہ معلومات فراہم کیں تھیں۔ انھیں 1985 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ابتدا میں اسرائیل نے اِس بات سے انکار کیا تھا کہ پولارڈ نے اُن کے لیے جاسوسی کی اور وہ اِس بات پر بضد تھے کہ وہ ’معاون‘ حکام کے ساتھ کام کرتے تھے۔
لیکن سنہ 1995 میں اسرائیل نے اُنھیں شہریت دے دی اور دو سال بعد اُنھوں نے قبول کرلیا کہ وہ اُن کے ایجنٹ تھے۔
امریکی خبر رساں ادارے کو سنہ 1998 میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے پولارڈ کا کہنا تھا کہ وہ جاسوسی کے جس الزام کی سزا کاٹ رہے ہیں اُس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے عمل کے نتیجے میں کوئی اچھی بات نہیں ہوئی۔ میں ایک ہی وقت میں دو ممالک کے لیے کام کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو کہ نہ ہوسکا۔‘







