پیرس حملوں کے ہلاک شدگان کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی

گذشتہ روز پیرس میں کئی مقامات پر دعائیہ تقریبات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنگذشتہ روز پیرس میں کئی مقامات پر دعائیہ تقریبات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا

پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد وہاں کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پورے یورپ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کی قیادت میں پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں گرینج کے معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بجے ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی گئی۔

ان حملوں میں پیرس کے چھ مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 129 افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے۔

صدر فرانسوا اولاند بعد میں پارلیمان کے مشترکہ ایوانوں سے خطاب بھی کریں گے جبکہ پیرس میں میوزیم سمیت کئی دوسرے تفریحی اور ثقافتی مقامات کے بھی جلد دوبارہ کھلنے کی توقع ہے۔

گذشتہ روز پیرس کے مختلف مقامات پر متاثرین سے اظہار یک جہتی کے لیے دعائیہ تقریبات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

برطانیہ کے دارالحکمت لندن اور دیگر برطانوی شہروں میں بھی پیرس حملے کے متاثرین کو یاد کیا گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) میں بھی تمام عملے نے پیرس کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے طور پر ایک منٹ خاموشی اختیار کی۔

دوسری جانب فرانس کے وزیر اعظم مینوئل والس نے کہا ہے کہ فرانسیسی حکام کے علم میں ہے کہ مزید دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور پیرس حملوں کی منصوبہ بندی شام میں کی گئی تھی۔

اس سے قبل فرانسیسی پولیس نے پیرس میں ہونے والے حملوں کے سلسلے میں مطلوب ایک شخص کی تصویر جاری کرتے ہوئے اس کے بارے میں معلومات کے لیے عوام سے تعاون کی اپیل کی تھی۔

پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص بیلجیئم میں پیدا ہونے والا 26 سالہ صالح عبدالسلام ہے۔