حملہ آوروں نے تھیٹر، ریستوران اور سٹیڈیم کو نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہReuters

جمعے کو فرانس میں ہونے والے حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حملہ آوروں نے دارالحکومت پیرس کے فٹ بال سٹیڈیم، ریسٹوران، بار اور ایک کانسرٹ ہال میں خود کش حملے اور اندھا دھند فائرنگ کی۔

ان حملوں میں کم سے کم 120 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ درجنوں کی حالت تشویش نا ک ہے۔

ان حملوں کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں:

رات نو بج کر 20 منٹ، ری علیبخ حملے

،تصویر کا ذریعہAFP

لی کیریون

رات نو بجے کے بعد پیرس کے ان علاقوں میں سلسلہ وار حملوں کا آغاز ہوا جہاں رات میں زیادہ تر لوگ جاتے ہیں۔ یہ علاقہ دا لا ریپبلک سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے۔

پہلی گولی لی کیریون میں چلی، جہاں عینی شاہدین نے ابتدائی طور پر اسے کوئی آتش بازی سمجھا لیکن بعد میں لوگوں کو معلوم ہوا کے ایک شخص جس نے نقاب نہیں پہنا تھا اور نیم خودکار گن سے اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ انھوں نے ایک شخص کو بڑے اسلحےکے ساتھ گاڑی سے اترتے دیکھا۔

لی پتی کمبوج

عینی شاہد نے بتایا کہ اس شخص نے پھر اپنی گن کا رخ ریستوران لی پتی کمبوج کی جانب کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں دس سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

میک ڈونلڈ کے باہر

کچھ ہی منٹ بعد میک ڈونلڈ کے باہر بھی فائرنگ کا اطلاع ملی۔ اطلاعات کے مطابق وہاں سڑک پر گری ایک موٹر سائیکل اور گولیوں سے بھری ہوئی گاڑی ملی تھی۔

سٹڈ دا فرانس، نو بج کر 30 منٹ

سٹڈ دا فرانس فٹبال سٹیڈیم میں جہاں فرانس اور جرمنی کے درمیان ایک بین الاقوامی دوستانہ میچ کھیلا جا رہا تھا۔ میچ شروع ہونے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد پہلے دھماکے کی آواز سنی گئی۔ جس کے بعد صدر کو سٹیڈیم سے بہ حفاظت نکال لیا گیا۔

ان دھماکوں کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ خودکش تھے جس کے بعد تماشائی میدان میں اتر آئے۔

لا بیلے ایکیپ

اگلی فائرنگ کی اطلاعات بار لا بیلے ایکیپ سے آئیں۔ دو افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا جو کیفے کی جانب گولیاں برسا رہے تھے۔

ایک عینی شاہد کے مطابق: ’فائرنگ کا یہ سلسلہ تقریباً تین منٹ تک جاری رہا اور اس کے بعد وہ افراد گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

بٹاکلان کانسرٹ

سب سے زیادہ مہلک حملہ بٹاکلان تھیٹر میں پر ہوا جہاں اس وقت امریکی راک بینڈ ’ایگلز آف ڈیتھ میٹل‘ پرفارم کر رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق کئی حملہ آور ہال میں داخل ہوئے اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ ان حملہ آوروں میں سے ایک نے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

جس کے بعد انھوں نے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا۔