روسی طیارے کی تباہی کی وجوہات ’ابھی غیر واضح ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مصر کے علاقے سینا میں تباہ ہونے والے روسی مسافر طیارے کی تحقیق کرنے والی بین الاقوامی ٹیم کے مصری سربراہ نے کہا ہے کہ طیارے کی تباہی کے بارے میں کچھ بھی کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔
ایمان الا مقدم کا مزید کہنا تھا کہ روس کے مسافر طیارے کی تباہی کے حوالے سے تمام پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔
مصری ٹیم کے سربراہ ایمان الا مقدم نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ روسی مسافر طیارے کے کاک پٹ سے حاصل ہونے والی ریکارڈنگ کے آخری لمحے میں ایک شور سنا گیا ہے تاہم اس آواز کا مزید تجزیہ ہونا باقی ہے۔
بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جیمز رابنز کا کہنا ہے کہ اس تجزیے میں آواز کی لہروں کی تفصیلی جانچ پڑتال شامل ہو گی اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا پتہ چلانا بہت آسان ہو گا کہ آیا وہ شور بم کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔
ایمان الا مقدم کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقاتی ٹیم میں روس، فرانس، جرمن اور آئرش کے ماہرین شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ روس کے مسافر طیارے کی تباہی کی وجوہات کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے ’تمام پہلوؤں پر غور‘ کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی ایوی ایشن حکام جو طیارہ حادثے کی وجوہات کے لیے کی جانے والی تحقیقات سے آگاہ ہیں نے جمعے کو بی بی سی بتایا تھا کہ مصر میں گذشتہ ہفتے روسی طیارے کی تباہی کی وجہ اس کی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔
دیگر فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ فلائٹ ڈیٹا ریکاڈر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ’اچانک شدید‘ دھماکے کے نتیجے میں جہاز تباہ ہوا اور اس میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے۔
کوگلیماویا نامی کمپنی کا ایئر بس اے 321 طیارہ بحیرۂ احمر کے کنارے واقع مصر کے تفریحی سیاحتی مقام شرم الشیخ سے روس کے شہر سینٹ پیٹرز کے لیے پرواز کے 23 منٹ بعد گر کر تباہ ہوگیا تھا۔
اس حادثے میں 224 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر روسی تھے۔
امریکی اور برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس اندازوں کے مطابق مصر میں روسی جہاز کو بم کے ذریعے تباہ کیا گیا۔







