’روسی طیارے کی تباہی کی وجہ تکنیکی خرابی نہیں تھی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانسیسی ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ مصر میں گذشتہ ہفتے روسی طیارے کی تباہی کی وجہ اس کی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔
بی بی سی سے گفتگو میں یہ بات ان فرانسیسی حکام نے کہی جو طیارہ حادثے کی وجوہات کے لیے کی جانے والی تحقیقات سے آگاہ ہیں۔
<link type="page"><caption> ’طیارے کی تباہی کی وجوہات پر قیاس آرائیوں سے گریز کریں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/11/151105_kremlin_plane_crash_cause_rh" platform="highweb"/></link>
دیگر فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ فلائٹ ڈیٹا ریکاڈر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اچانک شدید‘ دھماکے کے نتیجے میں جہاز کریش ہوا اور اس میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اب تک شدت پسندوں کی پکڑی گئی فون کالز سے پتہ چلتا ہے کہ طیارے کی پرواز سے قبل اس میں بم رکھا گیا تھا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک گروہ نے جہاز کی تباہی کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس کے لیے انھوں نے کیا طریقہ کار استعمال کیا۔ شدت پسندوں کے اس دعوے کو حکومتِ مصر نے مسترد کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے مصر کے لیے تمام پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ نے مصر کے علاقے شرم الشیخ جانے والی پروازوں کو دو دن قبل منسوخ کر دیا تھا جبکہ چند اور ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں جانے سے خبردار کیا ہے۔
روسی کمپنی میٹروجیٹ کا ایئر بس اے 320 طیارہ سنیچر کو شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرزبرگ جا رہا تھا کہ فضا میں تباہ ہو گیا اور اس میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں فرانسیسی تحقیق کاروں نے بتایا کہ فلائٹ ڈیٹا ریکاڈر سے پتہ چلتا ہے کہ ’سب کچھ مکمل طور پر نارمل تھا، اور پھر اچانک کچھ بھی نہ رہا۔‘
اسی قسم کی بات ایک دوسرے تفتیش کار نے فرانس کے ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

،تصویر کا ذریعہAP
شرم الشیخ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سیلے نابیل کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے مصر میں پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ مصر کی سیاحت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے کیونکہ یہ وہاں کی معیشت کا اہم ذریعہ ہے۔
ہر سال مصر آنے والے 30 فیصد سیاحوں کا تعلق روس سے ہی ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ مصر کی سیاحتی صنعت سنہ 2011 میں آنے والے انقلاب اور غیر مستحکم سیاست کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔
اس وقت 50 ہزار روسی سیاح افراد مصر میں چھٹیاں منانے گئے ہوئے ہیں جنھیں ملک واپس لانا ہوگا۔







