روسی جہاز گرانے کا دعویٰ محض پروپیگنڈا ہے: مصری صدر
روس کی فضائی کمپنی کوگالی ماویا نے الزام عائد کیا ہے کہ گذشتہ ہفتے صحرائے سینا میں تباہ ہونے والا مسافر بردار طیارہ بیرونی عوامل کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا تھا۔ تاہم روس کی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ جہاز کی تباہی پر کسی قسم کی قیاس آرائی کرنا قبل ازوقت ہے۔
روسی ٹی وی سے گفتگو میں فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کے سربراہ الکساندر نیرادکو نے کہا کہ اس قسم کی بات چیت حقائق پر مبنی نہیں ہے۔
ادھر مصر کے صدر السیسی نے بی بی سی کودیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جہاز کی تباہی کی وجہ کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم انھوں نے جہادیوں کی جانب سے اس دعوے کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے کہ یہ جہاز انھوں نے مار گرایا ہے۔
صدر کا کہنا تھا کہ یہ مصر کی سکیورٹی، استحکام اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کا طریقہ ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل فضائی کمپنی کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ یہ حادثہ بیرونی وجوہات کی بنا پر ہوا۔
شہری ہوا بازی کے ماہرین کی طرف سے طیارے کے ’بلیک باکس‘ سے ڈیٹا حاصل کر کے ابھی حادثے کی تحقیقات ہونا باقی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
کوگالی ماویا نامی کمپنی کا ایئر بس اے 321 طیارہ حسانا نامی صحرائی علاقے میں گذشتہ ہفتے کو گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس پر سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اب اس فضائی کمپنی کا نام تبدیل کر کے میٹرو جیٹ رکھ دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
روسی ایوان صدر کریملن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حادثے میں تخریب کاری کا عنصر یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ماسکو میں فضائی کمپنی کے ڈپٹی ڈائریکٹر الیگزینڈر سمرنوف نے ایک پریس کانفرنس میں حادثے میں تکنیکی خرابی اور پائلٹ کی غلطی کے امکان کو رد کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
الیگزینڈر سمرنوف نے کہا کہ فضا میں جہاز کے پھٹ جانے کی واحد قابلِ فہم وجہ کسی بیرونی چیز سے ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔
فضائی کمپنی کے ایک اور اہلکار نے اس بات کا اعتراف کیا کہ تباہ ہونے والے جہاز کے ماضی میں بھی نقصان پہنچ چکا ہے اور 2001 میں اڑان بھرتے ہوئے اس کی دم کو نقصان پہنچا تھا۔
لیکن انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس کی مناسب مرمت کر لی گئی تھی اور یہ حادثے کے تباہ ہونے کی وجہ نہیں ہو سکتا۔
یہ ایئر بس 321 طیارہ گذشتہ ہفتے کو مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ سے اڑنے کے تھوڑی دیر بعد تباہ ہو گیا تھا۔







