انقرہ کی پولیس، انٹیلیجنس اور سکیورٹی سربراہان معطل

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امن ریلی میں دھماکوں کے بعد شہر کی پولیس، انٹیلیجنس اور سکیورٹی سربراہان کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ان بم دھماکوں میں کم سے کم 97 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
<link type="page"><caption> ’انقرہ دھماکوں کے پیچھے دولت اسلامیہ ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/10/151011_turkey_targets_pkk_sh" platform="highweb"/></link>
ترکی کی وزراتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹھوس تحقیقات میں مدد ملے گی۔
یہ حملے ترکی کی حالیہ تاریخ میں بدترین حملے ہیں جن کے بعد ترکی کی حکومت کے خلاف غصے میں اضافہ ہوا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بدھ کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جب کہ وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے دولتِ اسلامیہ اور کردستان ورکرز پارٹی پی کے کے کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو افراد کو پی کے کے کے ساتھ تعلقات کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔
دھماکوں کے بعد پہلی بار عوام کے سامنے بات کرتے ہوئے صدر اردوغان نے تسلیم کیا کہ یہ انٹیلیجنس کی ناکامی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا: ’اگر اس واقعے میں فرائض سے غفلت ثابت ہوتی ہے تو وزیرِ اعظم اور متعلقہ ادارے ضروری اقدامات کریں گے۔‘
ملک میں چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ حکومت ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
امن ریلی کا اہتمام کرنے والی کُرد نواز جماعت ’ایچ ڈی پی‘ کا دعویٰ ہے کہ دھماکوں میں 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مظاہرین نے دھماکوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت ریلی کے موقعے پر ضروری حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔







