’انقرہ دھماکوں کے پیچھے دولت اسلامیہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP
ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ کی ایک امن ریلی میں ہونے والے بم دھماکوں کی ذمہ دار اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم ہے۔
خیال رہے کہ سنیچر کو انقرہ میں بم دھماکوں میں کم از کم 97 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
سنیچر کے حملے کی ذمہ داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ دو خود کش حملہ آوروں نے بم دھماکے کیے تھے۔
قبل ازیں ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امن ریلی میں بم دھماکوں کے ایک روز بعد ترک فضائیہ نے کرد جنگجوؤں پر بمباری کی ہے۔
یہ بمباری جنوب مغربی علاقوں اور شمالی عراق کی سرحدی علاقوں میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ٹھکانوں پر کی گئی ہے۔
ترک فضائیہ نے تازہ بمباری سنیچر کو پی کے کے کی جانب سے نئی فائربندی کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کی ہے۔
ترکی میں امن ریلی میں دھماکوں کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور ملک میں عام انتخابات کا انعقاد بھی قریب ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) نے جون میں مجموعی اکثریت کھو دی تھی اور ان کے مقابلے میں کرد نواز جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کو کامیابی ملی تھی، جو سنیچر کو منعقدہ ریلی کا بھی حصہ تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ اتوار کو شمالی عراق کے علاقوں میتنا اور زیب میں ’پی کے کے‘ کے ٹھکانوں کا تباہ کیا گیا ہے۔
سنیچر کو ترک فضائیہ نے ترکی کے دیار باقر صوبے میں پی کے کے کو نشانہ بنایا تھا۔
ان کارروائیوں میں 49 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایک ترک سکیورٹی اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’پی کے کے کی فائربندی ہمارے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ آپریشن بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گا۔‘
دوسری جانب اتوار کو ہزاروں لوگ ہلاک شدگان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شہر کے مرکز میں جمع ہوئے۔
حکومت نے گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکوں کے بعد تین روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔
اس موقعے پر کچھ حاضرین نے دھماکوں والے مقام پر یادگاری پھول رکھنے کی کوشش کی جس پر پولیس اور ان کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی۔
سنیچر کو ریلی کا اہتمام کرنے والی کُرد نواز جماعت ’ایچ ڈی پی‘ کا دعویٰ ہے کہ دھماکوں میں 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دیگر ذرائع سے ابھی تک 95 افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔
مظاہرین نے دھماکوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت ریلی کے موقعے پر ضروری حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔







