’شمالی کوریا امریکہ کے خلاف اپنا دفاع کر سکتا ہے‘

پیونگ ینگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس پریڈ کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ یہاں متحد فوج موجود ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپیونگ ینگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس پریڈ کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ یہاں متحد فوج موجود ہے

شمالی کوریا کے رہبر اعلیٰ کم یونگ ان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کی جانب سے شروع کی جانے والی کسی بھی جنگ میں اپنا دفاع کر سکتا ہے۔

کم یونگ ان نے یہ بات حکمراں جماعت ورکرز پارٹی کے 70 سال مکمل ہونے پر دارالحکومت پیونگ ینگ میں منعقدہ ایک بڑی تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کہی۔

مرکزی چوک میں ان کے سامنے ہزاروں فوجی سرخ رنگ کے بینرز اٹھائے مارچ کرتے ہوئے گزرے جبکہ ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش بھی کی گئی ہے۔

کئی ٹینک اس بلند مقام کے قریب سے گزرے جہاں کم یونگ ان نے خطاب کرنا تھا اور اس دوران لڑاکا طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کرتے ہوئے فضا میں 70 کا ہندسہ بنایا۔

اس موقع پر کم یونگ ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری فوج کی متحد فورسز، عوام اور مضبوط جذبے کی وجہ سے تنہائی اور شاہی پابندیوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے جس کی وجہ سے دشمن شدید غصے اور خوف میں مبتلا ہو گیا ہے۔‘

طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کے دوران فضا میں 70 کا ہندسہ بنایا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنطیاروں نے فلائنگ پاسٹ کے دوران فضا میں 70 کا ہندسہ بنایا

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پارٹی کے انقلابی فوجی ساز و سامان کا مطلب ہے کہ ہم امریکی شاہوں کی جانب سے شروع کی جانے والی کسی بھی جنگ کے لیے تیار ہیں۔‘

پریڈ کے دوران ہزاروں عام شہریوں جن میں سکول کے بچے بھی شامل تھے نے رقص کیا۔

سرکاری ٹی وی نے اس تقریب کو براہ راست نشر کیا اور اس دوران جذباتی تبصرے بھی کئے گئے۔

پیونگ ینگ میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیو ایوانز کا کہنا ہے کہ یہ پریڈ شمالی کوریا کے رہنما کے الفاظ کی طرح ایک پیغام ہے جس کا مطلب اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ یہاں ایک فوج ہے اور وہ متحد فوج ہے۔

یہ تقریبات مزید جاری رہنے کا امکان ہے اور پیونگ ینگ کے رہائشیوں کو شہر کے کئی چوکوں میں شمع کے ساتھ پریڈ کرنے کی تیاریاں کرتے دیکھا گیا ہے۔اس پریڈ کا آغاز شام کو ہوگا۔